چین نے ملک کے خلائی پروگرام کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کردیا

چین کے شمال مغرب میں واقع جیو چھوان کے سیٹلائٹ لانچ مرکز سے لانگ مارچ -4 بی راکٹ شیجیان-6 05 سیٹلائٹ کو خلا میں لے کر روانہ ہورہا ہے۔(شِنہوا)

بیجنگ (شِنہوا) چین نے  ملک کے خلائی پروگرام کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کیا ہے۔

یہ وائٹ پیپر جمعہ کو چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن دفتر کی جانب سے شائع کیا گیا۔

"چین کا خلائی پروگرام: 2021 کا تناظر” کے عنوان سے جاری کردہ  وائٹ پیپر میں خلائی تحقیق  کے حوالے سے چین کے مقاصد، اصولوں، پالیسیوں ،اقدامات اور تعاون پر مبنی  اصولوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں خلائی سائنس، خلائی ٹیکنالوجی اور خلائی ایپلی کیشن میں ملک کی  کامیابیاں بیان کی گئی ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ خلائی صنعت ملک کی مجموعی قومی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے ، اور چین پرامن مقاصد کے لیے بیرونی خلا کی دریافت  اور استعمال کے اصول کو برقراررکھے ہوئے ہے۔

2016 کے بعد سے چین کی خلائی صنعت کی اہم کامیابیوں میں خلائی ڈھانچے میں مسلسل بہتری، بے ڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (بی ڈی ایس ) کی تکمیل وآپریشن، ہائی ریزولوشن ارتھ آبزرویشن سسٹم کی تکمیل، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور براڈ کاسٹنگ سروسز کی صلاحیت میں مسلسل بہتری،اور تین مراحل پر مشتمل چاند کے تحقیقی پروگرام کے حتمی مرحلے کی تکمیل شامل ہے جس کے پہلے مرحلے میں  خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے علاوہ  مریخ کے تحقیقی مشن تیان وین-1 کی لینڈنگ اور مریخ پر تحقیقی کام شامل ہے۔

پیپر کے مطابق آئندہ کے پانچ سالوں میں خلائی نقل و حمل کے نظام، خلائی انفراسٹرکچر، انسان بردار خلائی پرواز،  خلائی تحقیق، خلائی لانچنگ سائٹس اور ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ، نئی ٹیکنالوجیز پر تجربات اورخلا میں گورننس جیسے  اہم خلائی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

پیپر کے مطابق چین چاند کے قطبی خطوں میں تحقیق کے لیے تیار ہے اور انسان کوچاند پر اتارنے پر غور کر رہا ہے۔ ملک نے خلائی ملبے کی نگرانی کو بہتر بنانے اور زمین کے قریب دفاعی نظام اور زمین سے کنٹرول کے ساتھ خلا سے آب وہوا کی نگرانی کے نظام کے ذریعے خلائی ماحولیات کے نظام کو وسعت دینے کا عزم بھی کیا ہے۔

ملک سیٹلائٹ کے ساتھ عوامی خدمات کو مزید فروغ  دیتے ہوئے  خلائی ایپلی کیشن انڈسٹری کو وسعت دے گا۔

پیپر کے مطابق چین  خلائی کشش ثقل کی لہروں کا پتہ لگانے کے لیے سیٹلائٹ پر تحقیق اور ترقی،آئن اسٹائن پروب سیٹلائٹ اور خلائی بنیاد پرجدید  شمسی آبزرویٹری کے لیے خلائی سائنس پر تحقیق جاری رکھے گا ۔