سب کچھ بہتر ہے،شی آن میں مقیم غیر ملکی کوویڈ-19 کی وبا میں بھی پراعتماد نظر آئے

چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے شہر شی آن کی ایک دوا ساز کمپنی میں عملہ کے اراکین انسداد وباء کے سامان کا معائنہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

شی آن(شِنہوا)  چین کی شی آن جیاؤتونگ یونیورسٹی کے اسکول آف لاء میں قازقستان کی  پروفیسرعشوروا صوفیہ نے 15 دسمبر کو اپنی 48 ویں سالگرہ منائی جس کے بعد سے وہ اپنے  گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

چین کے شمال مغرب  میں واقع شی آن  کا بڑا شہر،جہاں پروفیسر عشوروا رہائش پذیر ہیں، کوویڈ-19 کی وبا کی نئی لہر کے خلاف نبرد آزما ہے۔

صوفیہ نے کہا کہ ہمیں وائرس کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ درحقیقت گھر میں رہنا اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔

اگرچہ  وہ گھروں کے اندر ہیں، تاہم خاندان کے افراد معمول کے مطابق اپنے معمولات میں مصروف ہیں۔ صوفیہ مطالعہ کے ساتھ اپنے لیکچر کی تیاری کرتی ہیں اور اس کے تین بچے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔ اس کے شوہر مقامی رہائشیوں کے لیے سبزیاں فراہم کرنے والے رضاکار کے طور پر کام  کررہے ہیں۔

اگرچہ ان کے معمولات زندگی میں خلل پڑا ہے، وہ مکمل طور پر تعاون کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ  ان کے خاندان کے ایک فرد چین سے وبا کی وجہ سے  انتقال کرگئے تھے  اس لیے  وہ چین کے ان اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہیں ، جن کا مقصد لوگوں کی زندگی اور صحت کو حقیقی معنوں میں اہمیت دینا ہے۔

شی آن جیاؤتونگ یونیورسٹی میں پاکستانی رضا سید علی نے کہا کہ”میں الیکٹریکل انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہوں۔ ہم شی آن میں کوویڈ-19 کی دوسری لہر کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ میں سب سے پہلے دن رات خدمات سر انجام دینے پر شی آن جیاؤ تونگ یونیورسٹی کے تمام ڈاکٹرز، طبی عملے، اساتذہ اور سیکورٹی سٹاف کو سلام پیش کروں گا۔”

کوویڈ کے دوران اس کی یونیورسٹی نے کیمپس میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔ تمام عملہ، چاہے وہ کینٹین کا ہو، سیکورٹی یا پھر اساتذہ، کیمپس کے اندر رہ رہے ہیں۔

اس نے مزید کہا ہے کہ "میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ کیمپس میں ہر ایک کوویڈ-19 کے خلاف زبردست کام کر رہا ہے۔”

45 سالہ  بھارتی شخص، دیو راتوری کو،اچانک وبائی لہر کی وجہ سے اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کا قیمتی وقت ملا ہے۔

17 سال سے چین میں مقیم ، راتوری چین کے پانچ شہروں میں پھیلے ریستوران کے کاروبار میں  مصروف تھے۔ریستورانزکے کاروبار سے وابستہ اس شخص کا کہنا ہے کہ چین  اس کی امیدوں کی سرزمین ہے۔

راتوری نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سےکاروباری دوروں میں مصروفیت کی وجہ سے ان کے پاس اپنے خاندان کے لیے بہت تھوڑا وقت ہوتا تھا۔لیکن اب ہم گھر پر کھانا پکانے، ورزش اور اپنے بچوں کے ساتھ تفریح  کے علاوہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

اگرچہ کوویڈ-19 کی حالیہ لہر کی وجہ سے راتوری کو شی آن میں اپنے تمام پانچ ریستوران بند کرنا پڑے ہیں ، لیکن وہ پر امید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا نقصان ہے، لیکن صرف عارضی نقصان ہے، موجودہ مشکلات سے نمٹنے کے لیے سخت انتظامات ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو سالوں میں دنیا میں وبا  قابو میں نہیں رہی کیونکہ بہت سے مغربی ممالک میں اب بھی کیسز بڑھ رہے ہیں۔ لیکن چین نے اسے کنٹرول کرنے میں بہت اچھا کام کیا۔ مجھے یقین ہے کہ معاملات جلد معمول پر آجائیں گے، اس لیے ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

راتوری  کے اعتماد کی وجہ حال ہی میں متعارف کرائے گئے وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے متعدد اقدامات پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تقریباً ہر روز نیوکلک ایسڈ کا ٹیسٹ کرواتے ہیں اور کمیونٹی کا عملہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ جو بہت معاون اور تسلی بخش ہے۔

32 سالہ پوریا دائی نے ویڈیو لنک کے ذریعے ایران میں اپنے خاندان کے افراد کو بتایا کہ یہاں  سب ٹھیک ہے۔ یہ نوجوان چند سال قبل سیب کے کاروبار  کے لیے شی آن  آیا تھا جہاں سیب کی کل عالمی پیداوار کا تقریباً ساتواں حصہ پیدا ہوتا ہے۔

دائی کا کہنا ہے کہ انہیں  گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی  کیونکہ چین نے وائرس سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔ مجھے مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے اور میں باقاعدگی سے ٹیسٹ کرارہا ہوں۔

اب شی آن میں  زیادہ سے زیادہ لوگ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کو معمول پر لا رہے ہیں اور نئے مشاغل اختیار کر رہے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے پاکستانی طالب علم علوی نے ان دنوں میں کئی چینی پکوان بنانا اور چینی حروف لکھنا سیکھا ہے۔علوی نے چینی زبان میں کہا، "شی آن میں چیزیں بہتر ہوجائیں گی۔”