بائیڈن انتظامیہ کا ٹیکساس کے اسقاط حمل پر پابندی کے قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پرغور

ہیوسٹن (شِنہوا) امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سپریم کورٹ سے ریاست ٹیکساس کی جانب سے اسقاط حمل پرمکمل پابندی کے قانون کوروکنے کے لئے درخواست دینے پر غور کررہی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق محکمہ انصاف کے ترجمان انتھونی کولے نے اخبار دی ہل کوایک ای میل میں بتایا کہ محکمہ انصاف (ڈی او جے) سپریم کورٹ سے ٹیکساس سینیٹ بل 8 سے متعلق  ففتھ سرکٹ عدالت کے فیصلے کے خلاف ابتدائی حکم امتناعی  لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دی ہل کی رپورٹ کے مطابق  بائیڈن انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نجی طور پر نافذ ریاست کا حکم ایک واضح کوشش ہے جسے وہ غیر آئینی پابندی خیال کرتی ہے کیونکہ اگر اس کے نفاذ کی اجازت دی گئی تو دیگر ریاستیں اسی طرح سے  دوسرے آئینی حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

 ففتھ سرکٹ کورٹ آف اپیل کے تین ججوں پر مشتمل پینل نے گزشتہ روز ایک کے مقابلے میں دو کی اکثریت سے فیصلہ  دیا کہ  چھ ہفتوں کے حمل کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کا ریاستی قانون نافذ العمل رہ سکتا ہے۔