عالمی وباکی روک تھام کیلئے نوول کروناوائرس کے ماخذکی دنیا بھر میں تحقیقات ہونی چاہئیں،لانسیٹ

بیجنگ(شِنہوا) مستقبل میں عا لمی وبا کی روک تھام کیلئے  نوول کروناوائرس کے ماخذ کی تلاش کی خاطر دنیا بھرمیں تحقیقات ہونی چاہئیں۔

لانسیٹ میں شائع چینی سائنسدانوں کے ایک گروہ کی جانب سے مشترکہ طور پر لکھے گئے مضمون میں مصنفین نے واضح کیاکہ اس تصور کی تائید کیلئے کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ کسی بھی لیبارٹری نے سارس-سی او وی-2  یا نوول کروناوائرس کی عالمی وبا سے قبل اس کے قریبی اجداد کو سنبھالا ہو۔

دنیا بھر میں اب تک کئے گئے مختلف مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ سارس-سی او وی-2 سے متعلق وائرس دنیا کے کئی حصوں میں انسانوں اور جانوروں کے درمیان انواع کی رکاوٹ کو بار بارعبور کرسکیں۔

مضمون میں کہا گیا کہ دراصل یہ تقریباً یقینی ہے کہ جانوروں سے انسانوں میں ایسی منتقلی بار بار ہورہی ہے۔

مضمون میں  اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آج تک کی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر سارس-سی او وی-2 کاایک پیچیدہ ماخذ ہو سکتا ہے، اس کے ماخذکی تحقیقات ایک مشکل کام ہے۔

مضمون میں کہاگیاہے کہ کوئی بھی مفروضہ جس میں سائنسی شواہد کا فقدان ہے وہ سائنسی برادری اور آبادی کے مختلف گروہوں میں علیحدگی کا باعث بن سکتا ہے،اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی قیاس آرائی نوول کروناوائرس اور دیگروائرس کیخلاف عالمی جنگ میں درکار اتحاد اور تعاون کیلئے سازگار نہیں ہے اور یہ سائنس اور انسانیت کے جذبے کیخلاف ہے۔