قدیم تبتی قالین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں کاروباری مواقع حاصل کرنے کے لئے تیار

چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے صدر مقام شی ننگ میں منعقد ہونے والی چائنہ(چھنگ ہائی) بین الاقوامی ماحولیاتی نمائش میں تبتی قالین دکھا رہی ہے۔(شِنہوا)

شی ننگ (شِنہوا)  روایتی کھڈیوں پر دھاگوں کو باہم جوڑ کر تیار کردہ قالین جو لوگوں کو پیش   کئے گئے ہیں پرشکوہ قومولانگما پہاڑ،چھنگ ہائی-تبت ریلوے اسٹیشن اورتبت کے خوش مزاج بزرگ افراد۔۔۔قومی خصوصیات سے مزین تبتی قالین،ہزاروں سالوں کی تاریخ پر محیط  اور دنیا بھر کے  تاجروں کو  باہم جوڑنے والے ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ممالک کے مابین معاشی اور ثقافتی تبادلوں  کا ایک اہم ذریعہ بن رہے ہیں۔

افغانستان ، ایران ، پاکستان ، بھارت  اور دیگر ممالک کے رنگا رنگ اور شاندار قالین  6 جون کو چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے صدر مقام شی ننگ میں منعقد ہونے والی  چائنہ(چھنگ ہائی) بین الاقوامی ماحولیاتی نمائش میں  لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ چھنگ ہائی اور تبت میں تیار کردہ تبتی قالین تاجروں کی اولین پسند تھے۔

چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے صدر مقام شی ننگ میں منعقد ہونے والی چائنہ(چھنگ ہائی) بین الاقوامی ماحولیاتی نمائش میں ایرانی قالین دکھا رہی ہیں۔

چائنہ  آرٹس اینڈ کرافٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر وانگ ژیجی نے کہا کہ چین کے ہاتھ سے تیار کردہ قالینوں کی ایک طویل  تاریخ ہے ، جو تحریری ریکارڈ کے مطابق تقریباً2ہزار سال اورایک تحقیق کے مطابق تقریباً3ہزار سال قدیم ہے۔ایک دور میں یہ  فارسی قالینوں کے ساتھ دنیا کے دو فنی مہارت کے شاہکار مانے جاتے تھے۔

افغان تاجر جیدی پہلی بار 2016 میں چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ آئے۔ انہیں  قدیم چینی ثقافت سے لگاؤ پیدا ہوا اور انہوں نےچین اور افغانستان کے مابین کاروباری مواقع  تلاش کئے۔2017 میں ، وہ صوبہ  ژی  جیانگ کے شہر ای وو آئے اور غیر ملکی تجارت کا کاروبار شروع کیا۔ اس نمائش میں  وہ چھنگ ہائی اور تبت کے قالین دیکھ کر دنگ رہ  گئے۔

جیدی نے کہا کہ تبت کے بنے قالین افغان قالینوں  جیسے ہیں جن کا خام مال بنیادی طور پر اون ہے۔ دستکا روں کی دانائی  خالص انسانی ہاتھ سے تیار ہونے والے ان قالینوں میں  مرتکز ہے۔ ہر قالین کے پیچھے ، سطح مرتفع کی ایک طویل  ثقافت ہے اور ان  کے پیچھے  ثقافتی  خصوصیات کی اہمیت کو ہم ہی سمجھتے ہیں۔

چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے صدر مقام شی ننگ میں منعقد ہونے والی چائنہ(چھنگ ہائی) بین الاقوامی ماحولیاتی نمائش میں افغان تاجر جیدی افغان قالین دکھا رہا ہے۔(شِنہوا)

2003 میں ، چھنگ ہائی کی صوبائی حکومت نے پہلی بار ایک اہم صنعت کے طور پر تبتی قالین سازی کی دستکاری کی مدداور اسے  فروغ دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

2016 میں ، چھنگ ہائی کی پہلی چائنہ-یورپ مال بردار ٹرین (شی ننگ -انٹورپ) شی ننگ کے شوآنگ ژائی لاجسٹک سنٹر سے باضابطہ طور پر روانہ ہوئی۔ مخملی تبتی قالین ، ہاتھ سے تیار خالص ریشم کے قالین اور اون سے بنے تبتی قالین اس وقت  کی برآمدات میں اہمیت کی حامل مصنوعات بن گئیں۔

48 سالہ کائی شیانگ دووجی بیجنگ دووجی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کے سربراہ ہیں ، 19 سال کی عمر سے ہی انہوں نے تھائی لینڈ ، ملائشیا ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں کام کیا  اور ان ممالک میں مقامی دستکاریوں کو متعارف کرایا ۔ 2012 کے بعد وہ کاروبار شروع کرنے کے لئے چین واپس آئے ،اور تبت کے روایتی فرنیچر اور تبتی قالین جیسی دستکاریوں کا کام شروع کیا۔

چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے صدر مقام شی ننگ میں منعقد ہونے والی چائنہ(چھنگ ہائی) بین الاقوامی ماحولیاتی نمائش میں تبتی قالین دکھا رہی ہے۔(شِنہوا)

کائی شیانگ دووجی نے بتایا کہ تبتی قالین  سازی کے متعدد طریقے ہیں جو علاقائی ثقافت اور گہرے نقوش سے بھرپور ہیں۔چھنگ ہائی تبتی قالین نے اپنی طویل مدتی نشوونما اور ارتقا کے عمل میں قومی لوک ثقافت کے رنگوں کو اپنے اندر سمیٹا ہے۔

آج کے دن کائی شیانگ دووجی کمپنی کے تیار کردہ تبتی قالین پاکستان ، ملائشیا اور "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کے ساتھ واقع دیگر ممالک کو  برآمد کیے جاتے ہیں۔

کائی شیانگ کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تبت کے قالین مزید خوبصورت ہوجائیں گے۔