اسرائیل میں غزہ سے راکٹ حملوں میں باپ اور نوعمر بیٹی ہلاک

یروشلم کے پرانے شہر کے باب دمشق کے باہر جھڑپوں کے دوران ایک دستی بم دھماکے سے پھٹ گیا۔(شِنہوا)

بیت المقدس(شِنہوا)غزہ سے رات گئے فائر کیے گئے راکٹوں کے باعث وسطی اسرائیل میں ایک شخص اور اسکی بیٹی ہلاک ہو گئی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں اور تشدد میں اضافہ جاری ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ پیر کی سہ پہر سے لیکر اب تک اسرائیل پر 850 راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں اور 200 مزید راکٹ محصور ساحلی علاقہ کے اندر ہی گرے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اینٹی راکٹ نظام آئرن ڈوم کے ذریعے تقریباً 90 فیصد راکٹوں کو روک لیا گیا ہے۔

رات گئے کیے جانیوالے حملے میں غزہ کے جنگجوؤں نے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر شہروں پر متعدد راکٹ فائر کیے ہیں۔

اسرائیل کی ایمرجنسی ہیلتھ سروسز اور پولیس نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ اس حملے میں تل ابیب کے مشرق میں واقع ایک چھوٹے قصبے دحامش کے رہائشی اسرائیل کے عرب شہری 52 سالہ خالیل عواد اور اسکی 16 سالہ بیٹی نادین ہلاک ہو گئی ہے۔

ایئرپورٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی صبح تل ابیب سے باہر واقع اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب بھی راکٹ فائر کیے گئے ہیں جہاں منگل کے روز سے تمام پروازیں روک دی گئی تھیں۔