سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

افغانستان کے کابل میں دھماکے کے مقام کا منظر۔(شِنہوا)

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کے مشرقی صوبہ لوگر کے صدر مقام پُلِ عالم میں جمعہ کے روز ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں ہائی اسکول کے طلبا سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔

پاکستانی وقت کے مطابق منگل کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرہ افراد کے لواحقین اور افغان حکومت سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی ہے ۔

کونسل کے ارکان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اپنی تمام تر اقسام اور توضیحات میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے سب سے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے حملے میں ملوث افراد ، منتظمین ، مالی معاونت کرنے والوں اور سرپرستوں سے جواب طلبی اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ تمام ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان حکومت اور دیگر تمام متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلا جواز ہے ، اس سے قطع نظر کہ اس کے پیچھے کوئی بھی محرک ہو یا جہاں بھی ، جب بھی اور جس نے بھی اس کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے متعلقہ قوانین اور ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے تمام ریاستوں پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔