چین کے ساتھ نئی سرد جنگ امریکہ کے لئے نا منا سب ہے،محقق

الاسکا کے شہر اینکورج میں امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات کے آغاز پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی شرکاء کو متعلقہ امور پر چینی موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

لاس اینجلس (شِنہوا)امریکہ نے سرد جنگ کے معمولات کے لئے بہت بھاری قیمت چکائی ہے اور یہ ادائیگی اب بھی جاری ہے ا س لئے اسے چین کے خلاف نئی سرد جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہئے ، جو ممکنہ طور پر بقائے باہمی کی راہ میں حائل رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز میں  شائع ہونے والی رائے میں  کوئنسی انسٹی ٹیوٹ برائے ذمہ دارانہ فن حکمرانی  کے صدر اینڈریو باسویچ نے کہا کہ ایک نئی سرد جنگ یقینی طور پر چین اور امریکہ کے مابین تعلقات کو فوجی مسابقت اور محاذ آرائی پر مرکوز کرے گی جو ممکنہ طور پر آنے والے عشروں تک جاری رہے گی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ صرف جاہل ہی پہلی سرد جنگ سے پیدا ہونے والے خطرات اور اصل تباہی کو دیکھتے ہوئے ایسے امکان کا خیرمقدم کرسکتے ہیں۔

 باسویچ نے ملک کے شاہانہ دفاعی بجٹ اور بیرون ملک فعال فوجی موجودگی اور مداخلت کی نشاندہی کرتے ہوئے موقف اختیار کیا  کہ امریکہ نے 1980 کی دہائی کے اختتام پر جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا ، کے بعد بھی مہنگے معمولات کو برقرار رکھا ہوا ہے اور اس کی تجدید کر رہا ہے جو ا س نے سرد جنگ جاری رکھنے کے لئے اپنا رکھے تھے ۔

محقق کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بار بار ہونے والے حوالہ سے تخیلات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اورایسی صورت میں امریکہ چین تعلقات کو سنبھالنا کہیں زیادہ حکمت اور بصیرت کا متقاضی ایک نازک معاملہ ہوگا جس کا مظاہرہ حالیہ برسوں میں واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ نے کیا ہے۔