چینی سفیر کی تخفیف اسلحہ امور پر امریکہ کے منفی اقدامات پر کڑی تنقید

فائل فوٹو، چین کے دارالحکومت بیجنگ کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا ایک منظر۔ (شِنہوا)

اقوام متحدہ(شِنہوا)  تخفیف اسلحہ امور کے لیے چین کے سفیر لی سونگ نے  تخفیف اسلحہ کے بارے میں منفی اقدامات اٹھانے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) معاہدے کے فریقین کی 10ویں جائزہ کانفرنس کی کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے لی نے کہا کہ سرد جنگ کی ذہنیت کے ساتھ امریکہ بڑی طاقت کے اسٹریٹجک مقابلے کے جنون میں مبتلا ہے اور اس نے مکمل سٹریٹجک فائدہ اٹھایا ، فوجی اتحاد کو مضبوط کیا اور یوریشیا براعظم کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں گروہی تصادم کوہوادی اور جوہری میزائلوں اور دیگر اسٹریٹجک فورسز کی تعیناتی میں پیش رفت کی۔

چینی سفیرنے کہا کہ ان منفی اقدامات نے بڑی طاقتوں کے درمیان باہمی اعتماد کو مجروح کیا،عالمی تزویراتی توازن اور استحکام کو متاثر کیا، جوہری تخفیف اسلحہ کی بین الاقوامی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالیں اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور تنازعات میں اضافہ کیا۔

لی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس جائزہ کانفرنس کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقیقی کثیر الثقافتی سوچ پر عمل کرنا چاہیے، سرد جنگ کی ذہنیت اور دھڑے بندی کی  مخاصمت کا بھرپور مقابلہ ، مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار عالمی سلامتی کے وژن کو برقرار رکھنا چاہیے اور موثر طریقوں سے تفصیلی بات چیت کرنی چاہیے اور یہ کہ بین الاقوامی جوہری تخفیف اسلحہ کی کوششوں  کو آگے بڑھاتے ہوئے این پی ٹی  کی اتھارٹی اور اثر کو برقرار اور مضبوط کرنا چاہئے۔