شدید مہنگائی کے دوران جرمن باشندوں کو تنگدستی کا سامنا

گلوبل لنک |شدید مہنگائی کے دوران جرمن باشندوں کو تنگدستی کا سامنا

جرمنی میں مہنگائی بے قابو ہوتی جا رہی ہے اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کی وجہ سے باالخصوص کمزور طبقات کو گزر اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جولائی کے دوران جرمنی میں افراط زر میں غیر متوقع طور پر اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق صارفین کی قیمتوں میں اضافہ کی پیمائش کرنے والے انڈیکس میں گزشتہ سال کے اسی مہینہ کے مقابلہ میں 8.5فیصد اضافہ ہوا۔

جولائی کے دوران توانائی اور کھانے پینے کی اشیاء،  دونوں کی لاگت میں  گزشتہ سال کی نسبت باالترتیب 7۔35 فیصد اور 8۔14 فیصد کا اضافہ ہوا۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور کئی لوگ، باالخصوص پنشنرز اور بے روزگار افراد سمیت کمزور طبقات کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

لہذا مہنگائی مجھے بری طرح متاثر کر رہی ہے۔  بہت ساری چیزیں ہیں جو میں اب نہیں کر سکتا، جیسے چھٹیوں پر باہر جانا، جو اب میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ میری زندگی کا زیادہ انحصار اب گرجا گھروں اور مفت کھانے کا بتانے والے ایپس پر ہے اور اسی طرح کی دوسری چیزوں پر۔ میرے لیے یہ باعث شرمندگی نہیں مگر یہ تسلیم کرنا کافی مشکل ہے کہ مجھے ان سہولیات پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ میرے پاس اس مہنگائی کی وجہ سے  اخراجات کے لیے رقم نہیں ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ اس لیے ہے کہ ہر ہفتے جب میں گھر کا سودا سلف، خاص طور پر پھل اورسبزیاں خریدتا ہوں تو مجھے زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ لہذا میرے خیال میں اس کا اثر بہت زیادہ ہے اور ہم اسے محسوس کر سکتے ہیں۔

جرمن حکومت نے مہنگائی  کو بےقابو ہونے سے روکنے کے لیے کئی امدادی پیکیج شروع کیے ہیں۔

تاہم، ان عارضی اقدامات کا مہنگائی پر دیر پا اثر نہیں ہوگا، جسے تجزیہ کاروں کے مطابق قابو میں کرنا انتہائی مشکل ہے۔