عمران خان کانیب قوانین میں ترامیم اور مہنگائی کیخلاف آئندہ ہفتے احتجاج کا اعلان

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان نے نیب قوانین میں ترامیم اور مہنگائی کیخلاف آئندہ ہفتے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم سے بڑے ڈاکوئوں کو چھوٹ دیدی، ہم نے نیب قانون میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ہیں ، اگر نیب ترامیم میں یہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر سمجھ جائیں کہ پاکستان ایک بنانا ریپبلک بن جائے گا ،یہ ملک کی تباہی ہے ،امید ہے عدلیہ پر بھروسہ ہے وہ پاکستان پر یہ ظلم نہیں ہونے دیگی، نیب قانون میں ترامیم کو قبول کرلیا گیا تو پاکستان کو دشمن کی ضرورت نہیں ، اپنی چوری بچانے کیلئے انہوں نے ملک کے نظام انصاف و احتساب کی قبر کھود دی ، یہ لو گ پٹرو ل مزید مہنگا کرنے کی تیاری کررہے ہیں جو عوا م کیلئے مزیدمشکلات پیداکرے گی ، ملک پاکستان کا مستقبل اب اندھیرے میں ڈال دیا ہے، اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے ان چوروں کے خلاف جو تیس سال سے ملک کو لوٹ رہے ان کے خلاف سٹینڈ لیں،چوروں سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ،دوجولائی کو پریڈ گرائونڈ میں پر امن جلسہ کریں گے۔ہفتہ کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے خوف ہے کہ ملک کو ناکام ریاست کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح ہو جانا چاہیے کہ موجودہ حکومت کی ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کی کوئی تیاری نہیں تھی ، قیمتیں نیچے لے کر آئیں کیونکہ شور مچا ہوا تھا کہ مہنگائی ہو گئی اور اس کے لئے مہنگائی مارچ کرایا ان کے ذہن میں اپنی چوری کی ہوئی رقم بچانا تھا ۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس عائد کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے اس ٹیکس سے مزید مہنگائی ہوگی اور متعدد انڈسٹریاں بند ہونا شروع ہوگئی ہیں اور کئی صنعتوں نے ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔سپرٹیکس سے کارپوریٹ ٹیکس 40 فیصد ہوجائے گا جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ ٹیکس 25 فیصد ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے میں حکومت رکے گی نہیں کیونکہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر 50 روپے فی لیٹر قیمتوں میں اضافہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں عام آدمی کا معاشی قتل کردیا ہے اور اس پر سپر ٹیکس سے چیزیں بنانے کا خرچہ اور انڈسٹری پر بوجھ بڑھے گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مشکل کا شکار تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھادیا ہے۔عمران خان نے کہاکہ پچھلے دس سال میں ملک کو مقروض کرکے اربوں پتی بنے تھے ان کو کیسے چھپانا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی تاریخ میں پرویژنل بجٹ کا نہیں سنا اور عارضی بجٹ لے کر آئے وہ بھی خانہ پوری کے لئے تھا ۔ جب کہ اس سے پہلے ہی مہنگائی کی جا چکی تھی اب دوبارہ بجٹ لے کرآئے ہیں جس سے عام آدمی کا معاشی قتل کر دیا گیا ۔ پٹرول ، ڈیزل ، بجلی کی قیمتیں بڑھائیں اب پٹرولیم مصنوعات پر مزید پچاس روپے بڑھائیں گے اس کے بعد پھر ٹیکس بھی لگا دیا ہے جس سے کارپوریٹس ٹیکس چالیس فیصد ہو جائے گا جب کہ خطے میں بنگلہ دیش اور ہندوستان میں پچیس فیصد ہے اس اقدام سے اشیاء کی قیمتیں مزید مہنگی ہونگی اور پروڈکشن بھی مہنگی ہو نگی اس ٹیکس سے ملک میں بے روزگاری بھی بڑھے گی اور معیشت بند ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ آئی ایم ایف کی وجہ سے دوسرا بجٹ لارہے ہیں، عام آدمی کا انہوں نے معاشی قتل کردیا ہے۔ بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں ویسے ہی اضافہ کردیا گیا ہے، چیزیں بنانے کا جو خرچہ آئے گا وہ بڑھے گا جس سے انڈسٹری پر بوجھ پڑے گا، کئی انڈسٹریاں بند ہونا شروع ہوگئی ہیں، اور لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے اور لوڈشیڈنگ کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑے گا، تنخواہ دار طبقہ ویسے ہی پریشان ہے اب زراعت کو بھی تباہ کیا جارہا ہے، پہلے انہوں نے 1 لاکھ تنخواہ دار کو ٹیکس چھوٹ دی تھی، اب انہوں نے 50 ہزار تنخواہ دار پر بھی ٹیکس لگادیا ہے۔واضح ہوگیا ان کی معیشت کوٹھیک کرنے کی کوئی تیاری نہیں تھی، ہماری حکومت میں مہنگائی کا بڑا شورکرتے تھے، واضح ہوگیا یہ مہنگائی ٹھیک کرنے نہیں آئے تھے، پرویزمشرف نے ان کواین آراو دیا تھا اب ان کو این آر او ٹو مل گیا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ ہم تو ٹیکس کا ہدف 8 ہزار ارب سے بھی زائد رکھتے اور پورا کرتے، ہم موجودہ لوگوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے تھے بلکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانا چاہتے تھے، اپریل سے ہم نے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا پروگرام بنایا تھا۔تحریک انصاف حکومت نے ٹیکس نیٹ میں ہم نے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرایا، شوگر انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے سیلز ٹیکس کی چوری روکی، ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے دکانوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتے تھے۔ ہم نے انڈسٹری پر بوجھ نہیں ڈالا اسی لیے ریکارڈایکسپورٹ کی گئیں، فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے مزدور نہیں مل رہے تھے، آج فیصل آباد میں فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔اقتصادی سروے رپورٹ میں ہماری گروتھ کے اعدادو شمار موجود ہیں، روزگار فراہمی میں ہم نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے زیادہ روزگار دیا، ہم ڈالر 178 پر چھوڑ کرگئے تھے آج 210 روپے کا ہے، ان لوگوں کے اقدامات کی وجہ سے مزید روپے کی قدر گرے گی۔ ہماری حکومت نے انڈسٹریز پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالا تھا، ہماری حکومت سے پہلے فیصل آباد انڈسٹریز بند اور ہماری حکومت میں مزدورنہیں مل رہے تھے، ہماری حکومت میں ٹیکسٹائل انڈسٹریزنے ترقی کی، اکنامک سروے میں سب کچھ لکھا ہے موجودہ حکومت نے جاری کیا، روپے کی قدر تیزی سے گر رہی ہے، عدم اعتماد کے بعد آج ڈالر212 کے قریب پہنچ چکا ہے، روپیہ، سٹاک مارکیٹ گرا اور ریکارڈ مہنگائی ہوئی، بجٹ کے بعد سارا بوجھ تنخواہ دارطبقے پر پڑے گا، ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے دوران ہماری حکومت نے سب سے زیادہ روزگاردیا۔عمران خان نے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کو چیلنج کرنے کیلئے آج سپریم کورٹ گئے ہیں، عدالت کا احترام ہے وہ پاکستان پر اس قسم کا ظلم نہیں ہونے دیگی، نیب قانون میں ترامیم کو قبول کرلیا گیا تو پاکستان کو دشمن کی ضرورت نہیں، یہ ملک کی تباہی ہے۔نیب قانون میں ترامیم کے ذریعے بڑے ڈاکوں کو چھوٹ دے دی گئی ہے، ان لوگوں نے اپنی چوری بچانے کیلئے احتساب کے نظام کی قبر کھود دی ہے، زرداری اور شریف جیسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اسی لیے ہر غریب ملک غریب تر ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں قانون ہے آپ کے اکانٹ میں پیسہ آئے گا تو آپ کو بتانا پڑیگا کہاں سے آیا، ان لوگوں نے دنیا کے قانون کو الٹ کردیا ہے، نئے نیب قانون کے مطابق کسی بیرون ملک بینک اکائونٹ کا ذکر عدالت میں نہیں کیا جاسکتا، بڑے ڈاکو ملک سے پیسہ باہر بھیجیں گے ان سے پوچھا نہیں جاسکتا۔عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے نے 16 ارب روپے کا کیس پکڑا، یہ پاکستان میں رکھتے تو پوچھا جاتا، نئے قانون کے مطابق اب ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی اس کی، انہوں نے کہا کہ یہ وہ کیسز ہیں جو پکڑے گئے ہیں جو پکڑے نہیں گئے وہ معلوم نہیں کتنے ان لوگوں نے پیسہ چوری کیا اور ملک سے باہر بھیج دیا۔نیب ترامیم میںحکومت نے بڑے ڈاکوں کو چھوٹ دیدی ہے، نیب ترامیم کے بعد صرف چھوٹے چور پکڑے جائیں گے، نئے قانون کے مطابق اگر کوئی چوری کا پیسہ اپنے بچوں کے نام پر پراپرٹی خریدے گا تو اس قانون کے مطابق کوئی نہیں پوچھ سکتا، فالودے والے، پاپڑ والے کیسز میں یہ سارے پاک ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنی چوری بچانے کے لیے ملک پاکستان کا مستقبل اب اندھیرے میں ڈال دیا ہے ، نیب ترامیم سے یہ حکومت میں آکر جتنی بھی چوری کریں ان کو کوئی نہیں پکڑ سکے گا ۔ عمران خان نے کہا کہ 26 سال پہلے ملک میں پہلا آدمی تھا جس نے کرپشن کو بنیادی مسئلے کے طور پر سامنے لایا تھا ۔ نیب جس کا کام چوروں کو پکڑنا تھا اس کو بند کردیئے ہیں اور ترامیم میں کہا گیا ہے کہ 1999 کے بعد کے جتنے کیسز ہیں وہ سب اس ترمیم میں شامل ہونگے اور یہ سارے وہ کیسز ہیں جو حکومت میں شامل لوگوں کے ہیں ۔ نیب ترمیم کے بعد اب یہ سارے بچ جائیں گے ۔ تحریک انصاف کے دور میں 480 ارب روپے نیب نے ریکور کیے تھے ترمیم کے بعد خدشہ ہے کہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے پیسے واپس کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے ان چوروں کے خلاف جو تیس سال سے ملک کو لوٹ رہے تھے ان کے خلاف سٹینڈ لیں ۔ اگر نیب ترامیم میں یہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر سمجھ جائیں کہ پاکستان ایک بنانا ریپبلک بن جائے گا ۔ ابھی وقت ہے سٹینڈ لیں ان چوروں سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ دوجولائی کو پریڈ گرانڈ میں پر امن جلسہ کریں گے جس میں صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوگ شامل ہونگے جب کہ لاہور ، کراچی ، پشاور ، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ، تما کارکنوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے شہروں میں اگلے ہفتے کی رات کو جلسوں کا اہتمام کریں۔