اسلام آباد سیاست کیلئے نہیں انقلاب کیلئے بلا رہا ہوں، عمران خان

لندن میں بیٹھا مفرور، ڈاکو بھی سن لے، تم نے اس ملک کے فیصلے نہیں کرنے ہیں، پاکستان کی قیادت کون کرے گا یہ فیصلہ عوام کرے گی، پاکستان پر یہ فیصلہ کن وقت ہے، امریکہ کے غلاموں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈیزل نے آتے ہی وہ وزارت لی جس میں کمائی ہو، امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کی گئی، امریکہ کے ایک چھوٹے سے سرکاری افسر نے مجھے ہٹانے کی دھمکی دی، ڈونلڈ لو نے کہا عمران خان کو نہ ہٹایا تو تمہیں نقصان ہو گا
ہمارے اوپر بٹھائے گئے امریکہ کے غلام کبھی قوم کو عظیم قوم نہیں بننے دیں گے، ہم نے اپنے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا، ہم نے 60 فیصد سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، عالمی سطح پر مہنگائی کے باوجود فضل الرحمان اور پیٹرول کی قیمت کم کردی، ورلڈ بینک کے مطابق سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار پاکستان میں ملا،جب ہماری دولت بڑھ رہی تھی تو بیرونی سازش ہوئی، یہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری نیب کی اصلاحات کررہا ہے،چیئرمین تحریک انصاف کا فیصل آباد دھوبی گھاٹ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب
فیصل آباد (آئی این پی )چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد سیاست کیلئے نہیں انقلاب کیلئے بلا رہا ہوں، لندن میں بیٹھا مفرور، ڈاکو بھی سن لے، تم نے اس ملک کے فیصلے نہیں کرنے ہیں، پاکستان کی قیادت کون کرے گا یہ فیصلہ عوام کرے گی، پاکستان پر یہ فیصلہ کن وقت ہے، امریکہ کے غلاموں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈیزل نے آتے ہی وہ وزارت لی جس میں کمائی ہو، امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کی گئی، امریکہ کے ایک چھوٹے سے سرکاری افسر نے مجھے ہٹانے کی دھمکی دی، ڈونلڈ لو نے کہا عمران خان کو نہ ہٹایا تو تمہیں نقصان ہو گا،ہمارے اوپر بٹھائے گئے امریکہ کے غلام کبھی قوم کو عظیم قوم نہیں بننے دیں گے، ہم نے اپنے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا، ہم نے 60 فیصد سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، عالمی سطح پر مہنگائی کے باوجود فضل الرحمان اور پیٹرول کی قیمت کم کردی، ورلڈ بینک کے مطابق سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار پاکستان میں ملا،جب ہماری دولت بڑھ رہی تھی تو بیرونی سازش ہوئی، یہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری نیب کی اصلاحات کررہا ہے، اتوار کو فیصل آباد دھوبی گھاٹ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران کان نے کہا کہ فیصل آباد میں 2018میں ٹیکسٹائل بند ہو رہی تھی لوگ صنعت کو ختم کر کے سوسائیٹیز بنا رہے تھے لیکن اب اللہ کا شکرہے جب آپ کو کال دوں گا تو آپ نے اسلام آباد آنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد سیاست کے لیے نہیں بلکہ انقلاب کے لیے بلا رہا ہوں، پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے بلا رہا ہوں۔ چوروں کے ٹولے کو یہاں سے پیغام دے رہا ہوں کہ ڈاکووں نے ملک کے فیصلے نہیں کرنے ہیں جب کہ ملک کے لیے یہ فیصلہ کن وقت ہے۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے خاص طور پر اسلام آباد مارچ میں شرکت کرنی ہے، 70 سال سے کم عمر افراد نوجوان ہیں، میں پاکستان کی ساری مائوں، بہنوں اور بچوں کو بھی دعوت دینے آیا ہوں، میرے والدین کہتے تھے تحریک پاکستان میں عورتیں، بچے اور بزرگ سب شامل تھے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ لندن میں بیٹھا مفرور، ڈاکو بھی سن لے، تم نے اس ملک کے فیصلے نہیں کرنے ہیں، پاکستان کی قیادت کون کرے گا یہ فیصلہ عوام کرے گی، پاکستان پر یہ فیصلہ کن وقت ہے، امریکہ کے غلاموں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈاکوئوں کے ٹولے سے بھی ملک کی جان چھڑانی ہے، یہ تھری اسٹوجز جن میں ڈاکو، زرداری بڑی بیماری اور ڈیزل شامل ہے، ڈیزل نے آتے ہی وہ وزارت لی جس میں کمائی ہو۔چیئرمین پی ٹی آئی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کی تاریخ نہ دی تو عوام کا سمندر اسلام آباد آ رہا ہے، عوام کا یہ سمندر سب کچھ بہا کر لے جائے گا، امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کی گئی، امریکہ کے ایک چھوٹے سے سرکاری افسر نے مجھے ہٹانے کی دھمکی دی، ڈونلڈ لو نے کہا عمران خان کو نہ ہٹایا تو تمہیں نقصان ہو گا، امریکی افسر نے کہا اگر شہباز شریف کو بٹھا دیا تو پاکستان کو معاف کر دیں گے، اس سے پوچھتا ہوں تم ہو کون پاکستان کو معاف کرنے والے، ہم امریکیوں کے نوکر اورغلام نہیں ہیں۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف بوٹ پالش اور آصف زرداری امریکیوں کے غلام ہیں، ڈیزل نے امریکی سفارتکار کو کہا مجھے موقع دیدیں میں بہتر خدمت کروں گا، یہ امریکیوں کے غلام ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم ان کی امت ہیں جو دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین لیڈر تھے، خوف کی زنجیر انسان کو پرواز نہیں کرنے دیتی، اللہ ایمان والوں کے خوف دور کردیتا ہے، کوئی جنرل اس وقت تک بڑا جنرل نہیں بن سکتاجب تک وہ خوف ختم نہ کر دے، کوئی اس وقت تک بڑابیٹسمین نہیں بن سکتا جب تک وہ باولر کا خوف ختم نہ کر دے، جب اسلام آباد بلائوں گا تو اپنے خوف کی زنجیریں توڑ کر آنا میرے ساتھ، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میرے خلاف میڈیا پر مہم چلائی گئی، عوام میری اتنی ہی عزت افزائی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کبھی غلام بڑے کام نہیں کر سکتا، صرف آزاد آد می بڑے کام کرتا ہے،ہمارے اوپر بٹھائے گئے امریکہ کے غلام کبھی قوم کو عظیم قوم نہیں بننے دیں گے، جب ہمیں حکومت ملی یہ چور 10 سال حکومت کر چکے تھے، ہم نے اپنے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا، ہم نے 60 فیصد سے زیادہ ٹیکس اکٹھے کیے، عالمی سطح پر مہنگائی کے باوجود فضل الرحمان اور پیٹرول کی قیمت کم کردی، ورلڈ بینک کے مطابق سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار پاکستان میں ملا،جب ہماری دولت بڑھ رہی تھی تو بیرونی سازش ہوئی، انہوں نے مل کر ہماری حکومت گرائی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے سازش کا پتہ چلا تو میں ان کے پاس گیا جو سازش روک سکتے تھے، میں نے انہیں بتایا کہ اگر سازش کامیاب ہوئی تو ہماری معیشت نیچے چلی جائے گی، شوکت ترین کو کہا ان لوگوں کو بتاو جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سازش کو نہیں روکا گیا،اب دیکھیں ڈالر کدھر چلا گیا، مہنگائی کی کیا صورتحال ہے؟ جب ملک کا پیسہ بن رہا تھا اس وقت ہماری حکومت گرائی گئی، جس جس نے سازش کی ہے، ایک ایک کی شکل میرے دل پر لکھی ہوئی ہے، چیف جسٹس پاکستان سے کہتا ہوں صدر کے خط پر ایک کمیشن بٹھائیں، کمیشن پتہ لگائے ان لوگوں نے کس کے ساتھ مل کر سازش کی ہے؟ قوم کو پتہ چلے کون ہیں میر جعفر اور میر صادق انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹاک ایکسچینج نیچے، مہنگائی، بجلی مہنگی اور آگے مزید مہنگائی اور ہماری معیشت نیچے جارہی ہے، اس کا کون ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہاکہ اوپر شہباز شریف بیٹھا ہوا، اس پر 24 ارب روپے کے کیسز ہیں اور اب اس کو این آر او مل رہا ہے، ایف آئی اے نے کیسز بنائے تھے اور اب ایف آئی اے کیسز ختم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے اوپر نیب میں اربوں کے کیسز ہیں اور وہ کہہ رہا ہے نیب اصلاحات کریں گے، یہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری نیب کی اصلاحات کررہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ لندن میں بیٹھا ہوا نواز شریف سزایافتہ ہے، اس سے ملک کا وزیراعظم ملنے جا رہا ہے ملک کے فیصلے کرنے کے لیے ، نواز شریف کی بیٹی بھی سزا یافتہ ہے لیکن اس کو وزیراعظم کا پروٹوکول مل رہا ہے۔حکومتی اتحاد پر الزامات عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کامیاب ہوجاتے ہیں، تو ہمارا ملک تباہی کی طرف جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ 20 تاریخ کے بعد جب میں کال دوں گا تو سب نکلیں اور آپ کو کسی چیز کا خوف نہیں ہونا چاہیے، ہماری حقیقی آزادی کی تحریک کے لیے خوف ختم کردیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں کریں گے ہماری تحریک جاری رہے گی، کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا، صرف تحریک انصاف نہیں بلکہ پورے پاکستانیوں اور سرکاری نوکروں کو دعوت دے رہا ہوں۔انہوں نے کہاکہ سرکاری نوکر ڈرتے ہیں کہ ان کی نوکریاں نہ چلی جائیں تو اپنے اہل خانہ کو بھیجنا، پولیس والے اور فوجی اپنے اہل خانہ کو بھیجیں کیونکہ یہ میری نہیں بلکہ پاکستان کی آزادی کی جنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ ہم کسی دوسرے ملک کی غلامی کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان چوروں کی غلامی کرنا چاہتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری جنگ دو قسم کی ہوگی، اس ملک میں اپنے پتلے رکھنے کے لیے جو سازش ہوتی ہے، اس سے ہم نے آزاد ہونا ہے، چور اور ڈاکو ہمارے اوپر مسلط ہوئے ہیں، ان سے آزاد ہونا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں لیکن میری قوم نکلے گی، میں اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں لیکن کسی صورت نہ ان چوروں کو مانوں گا اور نہ امریکا کے غلاموں کو مانوں گا۔