حکومت تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کرے, سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ کے زیر اہتمام سیمنار میں شرکاء کا مطالبہ

اسلام آباد ( آئی این پی ) ملک میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں،کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے،حکومت عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کو یقینی بناتے ہوئے تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کرے ۔ ان خیالات کا اظہارسوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک)کے زیر اہتمام تمباکو پر ٹیکس کو پاکستان کی خراب معیشت کی بہتری لیے ایک ممکنہ حل کے طور پر اجاگر کرنے کے موضوع پر سیشن سے مقررین نے کیا ۔ سیشن میں میڈیا اینکرز نے بھی حصہ لیا اور پاکستان سے تمباکو نوشی کے خاتمے کے بطور رضار کار اپنی خدمات پیش کرنے کا عزم کیا۔ جمعرات کو سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک)کے زیر اہتمام اسلام آباد میں تمباکو پر ٹیکس کو پاکستان کی خراب معیشت کی بہتری لیے ایک ممکنہ حل کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے ایک سیشن کا اہتمام کیا۔سپارک کے پروگرام منیجر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں درست فیصلہ سازی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی خزانے کو درپیش خسارہ پالیسی سازوں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے تاہم جو بھی اقدام کیے جائیں انکو عوام کے حق میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہملک میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2.9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو کینسر، ذیابیطس، دل کی بیماری، فالج اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے غیر متعدی امراض کا شکار ہیںاور ملک میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو کے استعمال اور اس سے منسلک صحت کے خطرات کو کم کرنے کا سب سے موزوں اقدام ہے، خاص طور پر کم آمدنی والی آبادی والے صارفین اور بچوں میں۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او، کرومیٹک ٹرسٹشارق محمود خان نے کہا کہ اقتصادی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔2019 میں تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی 120 ارب ہے جو تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا صرف 20 فیصد ہے۔ڈاکٹر ضیاالدین اسلام، کنٹری لیڈ آف ٹوبیکو کنٹرول پاکستان فار وائٹل اسٹریٹی جیزنے کہا کہ تمباکو پر ٹیکس لگانے میں پچھلی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں تھی موجودہ حکومت کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ یہ قدم اٹھا کر عوام اور ملکی معیشت کی مدد کریں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کو یقینی بناتے ہوئے تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کرے ۔