ڈیٹا کی طاقت صرف نمبر کہانی نہیں بلکہ یہ ڈیٹا جرنلزم ہے: چیئرمین نادرا

ڈیٹا جرنلزم سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، روایتی صحافتی طریقے اب معاشرے پر اثر انداز ہونے کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، صحافی برادری کو ڈیٹا کو سمجھنے اور اس کی تشریح کے جدید ٹولز سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے ڈیٹا جرنلزم کے حوالے سے منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس تربیتی ورکشاپ کا اہتمام مشترکہ طور پر ٹیکنالوجی ٹائمز –سائنس میڈیا کمپنی، ریجنل ریپورٹ، اور پاکستان سائنٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل انفارمیشن سینٹر (PASTIC) نے قائد اعظم یونیورسٹی میں کیا تھا۔
چیئرمین نادرا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی آمد سے صحافتی طریقوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ آج پارلیمنٹ میں جن عوامل پر بھی بحث ہو رہی ہے، وہ ماضی میں ڈیٹا پر مبنی کہانیوں سے متاثر تھی۔ اعداد و شمار کی طاقت صرف اعداد نہیں ہے، یہ اس سے آگے کی چیز ہے، جو نیوز اسٹوری کے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ ڈیٹا کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ یہ وہ وقت ہے، جب صحافیوں کو بھی اپنے آپ کو عصری متعلقہ آلات سے آراستہ کرنا چاہیے۔ ڈیٹا کی قدر کو سمجھنا، تشریح کرنا اور تصور کرنا انفارمیشن ٹیکنولوجی کے دور میں صحافت کے لیے جدید ترین اوزار ہیں۔ ملک نے مزید کہا،  ڈیٹا تجزیاتی ٹولز کے ذریعے، صحافی اپنے طرز عمل میں نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم شیخ، ڈائریکٹر جنرل پاسٹک نے پاسٹک کے مقاصد اور سائنسی معلومات جمع کرنے اور اس معلومات کو پھیلانے کے لیے اس کے مینڈیٹ کو واضح طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سائنس جرنلزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاسٹک متعلقہ شعبوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اکرم شیخ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ تربیت صحافیوں کو اپنی ڈیٹا اینالیٹک صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے مستقبل کی صحافت میں ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ اور پنڈورا پیپرز ڈیٹا جرنلزم کے بین الاقوامی منصوبے تھے، جنہوں نے معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ "ڈیٹا اینالیٹکس کے ساتھ کہانی کی قدر میں اضافہ ہوا، انہوں نے کہا۔
سینئر صحافی فرحان بخاری نے ڈیٹا کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ڈیٹا کے استعمال میں بہت محتاط رہنا چاہیے، صرف کسی ایک ذریعے سے حاصل کئے گئے ڈیٹا پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے طور پر بھی ڈیٹا کو کراس چیک کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنا چاہیے ۔ انہوں نے اپنے زندگی بھر کے تجربے کو وسط کیریئر کے صحافیوں کے ساتھ بھی شیئر کیا۔
سید پارس علی، ایڈیٹر ٹیکنالوجی ٹائمز نے بنیادی اعداد و شمار کے تجزیاتی ٹولز کے بارے میں ہینڈز آن ٹریننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں ڈیٹا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ڈیٹا کے بغیر کہانی کی صداقت محدود ہوتی ہے۔ اس لیے صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کہانیوں کو پیش کرنے کے لیے صحافت میں ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبے میں اپنی استعداد کار کو بڑھائے۔
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے ڈیٹا مینجمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر یاسر جاوید نے ڈیٹا اورینٹیشن اور ایویلیویشن پر لیکچر دیا۔ ادارہ شماریات پاکستان کی نمائندہ محترمہ رابعہ اعوان نے ڈیٹا اکٹھا کرنے، پروسیسنگ اور تشریح کے عمل پر روشنی ڈالی۔ سلیم رفیق، سابق ڈائرکٹر جنرل نادرا ٹیکنولوجیز نے بھی عصری اور مستقبل کے فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ صحافتی طریقوں میں ڈیٹا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تربیت میں مختلف پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹس سے تعلق رکھنے والے مڈ کیریئر صحافیوں نے شرکت کی۔