سی پیک کے تحت پہلا پن بجلی گھر آئندہ برس باقاعدہ فعال ہو جائے گا

اسلام آباد (آئی این پی)چین پاکستان اقتصادی راہداری میں پن بجلی کے پہلے منصوبے، پاکستان کے کروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں پانی کو ذخیرہ کرنے کا آپریشن شروع ہو گیا۔

منصوبے کے مطابق کروٹ پن بجلی گھر آئندہ برس کے وسط میں بجلی پیدا کرنے کا آغاز کرےگا۔
کروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی سرمایہ کاری اور تعمیر چائنا تھری گورجز گروپ نے کی ہے۔ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں توانائی کے تعاون کے لیے ایک ترجیحی منصوبہ ہے اور ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کے سلسلے میں پہلا پن بجلی کا منصوبہ ہے۔ کروٹ ہائیڈرو پاور سٹیشن کی تعمیر 2015 میں شروع ہوئی۔ تعمیر کے چھ برس سے زائد عرصے کے دوران اس منصوبے نے چین کے تعمیراتی معیارات پاکستان میں متعارف کروائے۔
کروٹ منصوبے کی تکمیل کے بعد، سالانہ اوسطاً بجلی کی پیداوار 3.2 بلین کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچ سکےگی، جس سے پاکستان کو صاف توانائی فراہم کی جائےگی ۔یہ منصوبہ 50 لاکھ مقامی لوگوں کی بجلی کی طلب کو پورا کرےگا، اور پاکستان میں بجلی کی کمی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں مدد دےگا۔ اس منصوبے سے مقامی لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ہے۔ تعمیراتی مدت کے دوران، اس منصوبے نے تقریباً 5000 لوگوں کے روزگار کا مسئلہ حل کیا۔
اطلاعات کے مطابق فی الحال، کروٹ ہائیڈرو پاور سٹیشن نے تعمیراتی شیڈول کا 95 فیصد حصہ مکمل کر لیا ہے، اور چاروں جنریٹر یونٹ اگلے سال کی پہلی ششماہی میں بجلی کی پیداوار شروع کر یں گے۔