بہاولپور لائرز پیس گروپ کے زیر اہتمام امن اور برداشت کے فروغ کیلئے سرگرمیوں کا انعقاد

بہاولپور (آئی این پی ) ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر امیر عجم ملک ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بی ایل پی جی منصوبہ کی اشد ضرورت تھی، معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو روکنے ہم سب کو مل کر کام کر نا ہو گا، معاشرے میں امن کا پیغام پھیلا نے کیلئے نوجوان وکلا اپنی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لائیں، معاشرے کے ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ تفصیلات کے مطابق بہاولپور لائرز پیس گروپ (BLPG) کے زیر اہتمام امن اور برداشت کے فروغ کے لیے جاری منصوبے کی اختتامی تقریب بہاولپور میں منعقد ہوئی۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی امیر عجم ملک ایڈووکیٹ(صدر، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور)، چوہدری عمران اشرف ایڈووکیٹ (جنرل سیکرٹری، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور)، محمد شریف بھٹی ایڈووکیٹ(سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور)، اختر عباسی ایڈووکیٹ (صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور)، سید منور حسین بخاری ایڈووکیٹ(سابق جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، بہاولپور)، محمد نورالامین ایڈووکیٹ، محمد رضوان ندیم ورک ایڈووکیٹ، صہیب اختر ایڈووکیٹ، عظیم چیمہ ایڈووکیٹ اور روبینہ ہارون ایڈووکیٹ تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد نورالامین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے شرکا اور مہمانوں کو بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دورانیے میں بی ایل پی جی نے امن کے فروغ کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے۔ انہوں نے پروگرام کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سماجی تنظیم فیس نے نوجوان وکلا کی تین روزہ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جبکہ ہائی کورٹ کے سیئیر وکلا پر مشتمل ایک ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا مقصد نوجوان وکلا کو رہنمائی فراہم کرنا تھا۔تربیت حاصل کرنے کے بعد بی ایل پی جی ممبران نے مختلف سوشل ایکشن پراجیکٹس کا انعقاد کیا جن میں آگاہی سیمینارز، امن مکالمے، کھیلوں کے مقابلے، ریڈیو پروگرامز، امن مشاعرے اور امن کے فروغ کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جن میں وکلا اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت کے رجحان کو کم کرنا تھا اور بطور سفیران امن وکلا کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کا مقصد نوجوان وکلا کو ایسے مواقع فراہم کرنا تھا کہ وہ امن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اختر عباسی ایڈووکیٹ کا کہنا کہ بی ایل پی جی ممبران کے امن کے فروغ کے لیے اقدامات قابل ستائش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ نوجوان وکلا کو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ایسے مواقع فراہم کیے گئے ہیں جس سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا بلکہ انہوں نے بطور امن سفیر اپنے کردار کو پہچانا ہے کہ وہ کس طرح معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو کم کر سکتے ہیں۔اس موقع پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر محمد شریف بھٹی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ قابل ستائش ہے کیونکہ یہ صرف ایک یا دو روزہ سرگرمی نہیں تھی بلکہ مختلف سرگرمیوں کا ایک تسلسل تھا جس نے نہ صرف نوجوان وکلا کو مواقع فراہم کیے کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر کچھ نیا سیکھ سکیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے مصروف رکھا گیا تاکہ وہ پراجیکٹ کے اختتام ہونے کے باوجود امن کے فروغ میں اپنا مثبت کردا ادا کرتے رہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر امیر عجم ملک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بی ایل پی جی کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کی ہے اور یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں اور خاص طور پر نوجوان وکلا اپنی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لائیں تاکہ معاشرے میں امن کا پیغام پھیلایا جائے اور نوجوان وکلا کے لیے ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جن سے نہ صرف وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں بلکہ معاشرے کے ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کے پیغام کو جاری رکھنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایک پرامن معاشرہ تشکیل پاسکے۔تقریب کے اختتام پر ایڈوئزری کمیٹی کے سینئیر رکن سید منور حسین بخاری نے خاص طور پر ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن، بہاولپور کے عہدیداران کی طرف سے دیے جانے والی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا سہرا اصل میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، بہاولپور کی کامیابی ہے کیونکہ بار کی معاونت کے بغیر منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہ تھا۔

انہوں نے خاص طور پر چوہدری عمران اشرف ایڈووکیٹ اور امیر عجم ملک ایڈووکیٹ کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ انہوں نے نوجوان وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اس پیغام کو جاری رکھیں تاکہ گزشتہ سات ماہ کی محنت رائیگاں نہ جائے اور امن کا یہ پیغام جاری رہے۔ تقریب میں وکلا، سول سوسائٹی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر نوجوان وکلا میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔