اب تک بجلی کے شعبے میں 17 فیصد لائن لاسز ہیں، بجلی ہوتے ہوئے بھی بجلی نہیں پہنچا سکتےوزیراعظم،

اسلام آباد (آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی، جلد قابو پالیں گے، اب تک بجلی کے شعبے میں 17 فیصد لائن لاسز ہیں، بجلی ہوتے ہوئے بھی بجلی نہیں پہنچا سکتے،ایک فیصد لائن لاسز کی صورت میں کئی ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، مٹیاری لاہور اسٹیٹ آف آرٹ منصوبہ ہے، سی پیک کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ جمعرات کو مٹیاری تا لاہور 600کے وی ٹرانسمیشن لائن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 2013 سے شروع ہوا لیکن اس پر کام نہیں ہوسکا۔ پچھلے تین سالوں میں اس پر تیزی سے کام ہوا سابقہ حکومتوں کی لاپرواہی کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ یہ پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ ہے 880کلومیٹر مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن لائن سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہے اس سے لائن لاسز کم ہونگے۔ ایک فیصد لائن لاسز سے پاکستان کو کئی ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے لائن لاسز عوام کو مہنگی بجلی کی صورت میں بھرنا پڑتے ہیں یہ منصوبہ بہت جلد اپنی لاگت پوری کردے گا۔ سی پیک منصوبوں میں تھوڑا ٹھہرائو آیا لیکن اب منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹرانسمیشن لائنز بہت پرانی ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے لائن لاسز بہت زیادہ ہیں پیسکو میں لائن لاسز اتنے زیادہ ہیں کہ بجلی ہونے کے باوجود عوام کو بجلی نہیں فراہم کرسکتے۔ لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ پرانی ٹرانسمیشن لائنز ہیں سابقہ حکومتوں نے نئی ٹرانسمیشن لائنز پر سرمایہ کاری ہی نہیں کی۔ جدید ٹرانسمیشن لائنز سے لائن لاسز سترہ سے کم ہو کر چار فیصد رہ جائیں گے ہم دیگر ٹرانسمیشن لائنز پر بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اگلا فیز انڈسٹریلائزیشن ہے۔ انڈسٹری کے بغیر ملک میں دولت نہیں آسکتی دولت میں اضافے سے ہی ہم قرضے واپس کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر ہمیں مشکلات کا سامنا تھا کرونا وباء کی وجہ سے ساری سپلائی چین متاثر ہوئی چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئیں ویکسی نیشن کرانے سے کرونا کا خوف کم ہوتا جارہا ہے۔ ہم نے کرونا کے چار ویوز کا مقابلہ کیا امید ہے کہ اگلی کرونا وباء کی لہر پہلے سے زیادہ متاثر نہیں کرسکے گی۔