چینی اور پاکستانی میڈیا کا جھوٹے پروپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کا عہد

اسلام آباد(آئی این پی)چین اورپاکستان کے میڈیا نے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے ’’ چین پاکستان میڈیا کوریڈور‘‘ کی تشکیل کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے اورمضبوط تعلقات کے قیام کا عہد کیا ہے۔اس حوالے سے ’’ باخبر بات چیت کے ذریعے چین پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے‘‘ کے مقصد کے تحت ہونے والے پہلے چین پاکستان میڈیا فورم میں غور کیا گیا۔ فورم کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیزنے اسلام آباد میں کیا تھا۔ فورم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چین اور پاکستان کے میڈیا کو جھوٹی اطلاعات کا پائیدار اور متحد جواب دینے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ چیلنجز سے نمٹنے اور مل کر کام کرنے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے میڈیا فورم کو باقاعدگی سے منظم کیا جائے گا۔فورم سے دونوں ممالک کے مقررین نے چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور مواصلات کے بہتر ذرائع کے ذریعے تعلقات کو فروغ دینے پر زوردیا۔چائنہ پاکستان میڈیا فورم اور انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈویلپمنٹ سٹڈیز کی بانی فرحت آصف نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ یہ پلیٹ فارم دونوں ممالک کے میڈیا گروپوں کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لیے قائم کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چائنہ پاکستان میڈیا فورم نہ صرف خبروں میں بلکہ فلم ، ڈرامہ ، ٹی وی ، ٹریول گائیڈز ، تراجم اور دیگر خدمات سمیت مواصلات کے دیگر اہم شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین فیصل جاوید خان نے کہا کہ جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے پاک چین تعلقات کو خطرے میں ڈالنے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان اور چین کا میڈیا دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی طور پر تیار کردہ ان منفی بیانیوں کا مقابلہ کرے گااور زیادہ مستعدی کے ساتھ ان کی تشکیل نو کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ایسا فورم ناگزیرہے اوریہ اقدام بروقت اٹھایا گیا ہے جسے دونوں ممالک کے میڈیا اداروں میں پائیدار شراکت داری کے قیام کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں۔فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کو میڈیا کے مضبوط پروپیگنڈے اور غلط معلومات کا سامنا ہے۔ کچھ بیرونی دشمن قوتیں منظم طریقے سے چین اور پاکستان کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔دونوں ممالک کے میڈیا کو سچائی ، انصاف اور شفافیت کے فروغ کے لیے کام کرنا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت قوت بننا چاہیے۔ چینی اور اردو زبان کی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے چین نے منفی رائے عامہ کے مقابلے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اردو میڈیا سروس شروع کی ہے۔ چینی سفیر نے میڈیاکے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پرچین میں پاکستانی سفیر معین الحق نے کہا کہ اس ڈیجیٹل دور میں میڈیا صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ رائے عامہ اور بین ریاستی تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ چین پاکستان میڈیا تعاون تعلقات کو مضبوط اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیو پولیٹیکل میدان میں تکنیکی ارتقا اور ترقی کے ساتھ ساتھ بیانیے کی تشکیل میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ہم نیٹ ورک لمیٹڈ کی صدر سلطانہ صدیقی نے کہا کہ میڈیا کے درمیان تعاون ثقافتی روابط کو فروغ دینے اور عوام کے عوام سے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے ان چیلنجوں پر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے جو دونوں اطراف کے تعاون میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔چائنہ میڈیا گروپ کی اردو سروس کے سینئر صحافی وانگ چھیان تھنگ نے اردو میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دوستی کا ایک خاص مقام ہے جو سدا بہار رہے گی۔ رینمن یونیورسٹی کے چھونگ یانگ انسٹی ٹیوٹ برائے فنانشل اسٹڈی کے سینئر فیلو پروفیسر ژاو رونگ نے کہا کہ چینی میڈیا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف اور افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کواجاگر کرے اوردونوں ممالک کے میڈیا اداروں کو سی پیک منصوبوں کی تشہیر کرنی چاہئے۔