وزیراعظم رئیل اسٹیٹ شعبہ کیلئے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کریں, آر ای سی اے کا حکومت سے مطالبہ

اسلام آباد(آئی این پی)رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن(آر ای سی اے) نے اپنی بجٹ تجاویز میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں مزید بہتری لانے کے لیے آمدہ بجٹ کے دوران ٹھوس اور دلیرانہ اقدامات اٹھائے جائیں، وزیراعظم رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کے لئے خصوصی طور ریلیف پیکج کا اعلان کریں اور رکنیت،ٹرانسفر اور ملکیت یا سائٹ پلان کے چارجز سمیت اتھارٹیز کی جانب سے عائد مختلف فیسوں میں 50 فیصد کمی کی جائے،وزیراعظم کے تعمیرات کے شعبہ کے لیے پیکج میں مزید ایک سال کی توسیع کی جائے، حکومت ملک میں جاری کورونا وبا کے پیش نظر ایف بی آر کے رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں کے ٹیبل اور ڈی سی ریٹ میں اضافہ نہ کرے اور ان میں خامیوں کو دور کرے، اس وقت پراپرٹی کی خریداری پر فائلر پر لاگو کئے گئے 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کو کم کرکے 0.25فیصد کیا جائے، فائلر پر عائد کیپٹل گین ٹیکس کو 1 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کیا جائے، رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے حکومت پراپرٹی کی خرید وفروخت پر رئیل اسٹیٹ کے ایجنٹس کو 2 فیصد کمیشن اور لیز یا رینٹ کی ڈیل پر ایک ماہ کا کرایہ بطور کمیشن ادا کرنے کے لئے قانونی تحفظ فراہم کرے۔ تفصیلات کے مطابق جنرل سیکرٹری رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن(آر ای سی اے) ڈی ایچ اے اسلام آباد۔راولپنڈی محمد احسن ملک کی جانب سے وزیر خزانہ شوکت ترین کو آئندہ مالی سال کے لئے رئیل اسٹیٹ کے لئے بھیجی گئیں بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ بلاشبہ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کی معیشت کی ترقی کے لئے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں۔لیکن مالی سال برائے 19۔2018اور 20۔2019کے دوران حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کے لئے سخت پالیسی اقدامات متعارف کرانے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور جس کی وجہ سے حکومت کے رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے وصول ہونے والے محصولات نچلی سطح پر رہے۔تاہم اس کے برعکس مالی سال21۔2020 کے دوران رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبہ میں پالیسی میں مثبت تبدیلی کی بدولت تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی جبکہ حکومت کے محصولات میں بھی اضافہ ہوا۔حکومت کواس شعبہ میں مزید بہتری لانے کے لییاب مزید ٹھوس اور دلیرانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو تجاویز پیش کیں گئیں ہیں کہ ملک میں جاری کورونا وبا کے پیش نظر ایف بی آر کے رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں کے تعین کے ٹیبل اور ڈی سی ریٹ میں اضافہ نہ کرے۔ایف بی آر اور ڈی سی ریٹس میں خامیوں کو دور کیا جائے۔اس وقت پراپرٹی کی خریداری پر فائلر کے لئے 1 فیصد جبکہ نان فائلر کے لئے 2 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس لاگو ہے۔ یہ ٹیکس فائلر کے لئے کم کرکے 0.25فیصد کیا جائے جبکہ نان فائلر کے لئے 2 فیصد برقرار رکھا جائے۔یہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔غیر منقولہ پراپرٹی پر5 فیصد فلیٹ ریٹ کے ساتھ کیپٹل گین ٹیکس کے تعین کے لئے زیادہ سے زیادہ مدت 4 سال سے کم کرکے تین سال کی جائے۔اس سے پراپرٹیز کی خریدوفروخت میں اضافہ ہوگا اور معیشت میں تیزی آئے گی۔اس وقت فائلر پر پراپرٹی کی فروخت کے بعد اس کو ٹرانسفر کرنے کے دوران 1 فیصد کیپٹل گین ٹیکس لاگو ہے۔ یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ فائلر کے لئے اس کیپٹل گین ٹیکس کو 1 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کیا جائے۔وزیراعظم رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کے لئے خصوصی طور ریلیف پیکج کا اعلان کریں اور پراپرٹیز کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی اتھارٹیز کی رکنیت،ٹرانسفر اور ملکیت یا سائٹ پلان کے چارجز میں 50 فیصد کمی کی جائے۔وزیراعظم کا تعمیرات کے لئے دیاجانے والا پیکج تیس جون کو ختم ہو رہا ہے اس میں مزید ایک سال کی توسیع کی جائے۔رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے خصوصی طور پر رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے اور ہمارا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔حکومت نے حال ہی میں دارلحکومت اسلام کے لئیرئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرایا ہے لیکن ابھی تک یہ نافذ نہیں کیا گیا۔اس کو فوری طور پر نافذ کیا جائے کیونکہ اس کے نفاذ سے رئیل اسٹیٹ کے 80 فیصد تک مسائل حل ہو جائیں گے۔تجاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی جا نب سے نامزد کردہ غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ جات(ڈی این ایف بی پی) کے تحت فائلرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کو نوٹس بھیجے جا رہے ہیں جبکہ این ایف بی پی کے تحت نان فائلرز کی رجسٹریشن کے لیے کوئی کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں۔اس وقت رئیل اسٹیٹ کے ایجنٹس،بلڈرز،ڈیویلپرز،منی چینجرزاور جیولرز کو ایک ہی ایس آرو کے تحت ڈیل کیا جا رہا ہے جبکہ ان کاروباروں میں کام کے اعتبار سے کوئی یکسانیت نہیں ہے۔اس لئے ہر کاروبار کی اس کی نوعیت کے اعتبار سے علیحدہ کیٹیگری تحت قانون بنائے جائیں۔ڈی این ایف بی پی کے قانونی تقاضوں کو ٹرانسفر، رجسٹریشن کی اتھارٹیز ،سوسائٹیز اور ریونیو اتھارٹیز کو پورے کرنے چاہیے نہ کہ انفرادی طور پر رئیل اسٹیٹ ایجنٹس پر یہ زمہ داری ڈالنی چاہیے۔حکومت پراپرٹی کی خرید وفروخت پر رئیل اسٹیٹ کے ایجنٹ کو 2 فیصد کمیشن اور لیز یا رینٹ کی ڈیل پر ایک ماہ کا کرایہ بطور کمیشن ادا کرنے کے لئے قانونی تحفظ فراہم کرے۔