امریکی فوج کے ہاتھوں شہریوں کے اندھا دھند قتل کے جرم کا احتساب ہونا چاہیے، چینی وزارت خارجہ

بیجنگ (آئی این پی)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے نام نہاد تحفظ کی حقیقی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے اور یہ ایک ستم ظریفی ہے -وانگ وین بن نے ایک پر یس کا نفر نس میں کہا کہ افغانستان میں شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجیوں کو سزا نہیں دی گئی تاہم واقعے کی حقیقت کو سامنے لانے والوں کو سزا دی گئی ہے ۔ ایسے واقعات نہ صرف افغانستان میں ہوئے ہیں بلکہ اس سے پہلے عراق اورشام میں بھی امریکہ اہلکار اسیے جنگی جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ امریکہ کی نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کی حقیقی صورت حال ہے ۔

چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ حال ہی میں، امریکی وزارت دفاع نے ان فوجی اہلکاروں کو کسی بھی قسم کی سزا نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے افغانستان میں ڈرون حملے میں حصہ لیا تھا اور دس افغان شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس سال کے شروع میں اس واقعے کا مشاہدہ کرنے والے امریکی فضائیہ کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر کو صحافیوں کو متعلقہ معلومات سے آگاہ کرنے پر 45 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر چین کا کیا تبصرہ ہے؟ اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نےرد عمل کا اظہار کیا-