کیاامریکہ ، افغانستان میں امریکہ کے ہاتھوں مارے جانے والوں کےلواحقین کو  ’’سمٹ فار ڈیموکریسی‘‘ میں شرکت کی دعوت دے سکتا ہے؟ رپورٹ

ما سکو (آئی این پی)روس کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ پر تنقید کی ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں امریکہ کا نام نہاد ’’سمٹ فار ڈیموکریسی‘‘ کا انعقاد شرمناک ہے۔لوگ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیاامریکہ ، افغانستان میں امریکہ کے ہاتھوں مارے گئے افراد کے لواحقین کو ’’سمٹ فار ڈیموکریسی‘‘ میں شرکت کی دعوت دے سکتا ہے؟
ستم ظریفی دیکھیے کہ امریکہ کی اس نام نہاد سمٹ کے شرکا کی جاری کردہ فہرست میں افغانستان شامل نہیں ہے ،وہی افغانستان جسے امریکہ نے ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر بدلنے کی کوشش کی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ بیرونی ممالک میں بیچا جانے والا  امریکی ’’جمہوریت‘‘ کا چورن ،محض فوجی مداخلت کا بہانہ ہے۔اگر امریکہ واقعی ’’جمہوریت‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ پر بحث کرنا چاہتا ہے،تو افغانستان میں امریکہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو اس سمٹ میں شرکت کی دعوت دی جانی چاہیئے ،تاکہ دنیا یہ دیکھے کہ بیس سال تک امریکہ کی ’’جمہوری تبدیلی‘‘ نے افغانستان کو کیا دیا ہے۔ایک افغان سکالر نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ تمہاری ’’سمٹ فار ڈیموکریسی‘‘ افغان عوام کو مدعو کرنے کا بہترین موقع ہے،تمہیں ہمارے خون اور تاریک مستقبل پر جمہوریت کا جشن منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔