چین-لاؤس ریلوے کی افتتاح دونوں ملکوں کی دوستی کو مزید تقویت ہوگی

بیجنگ (آئی این پی)چین-لاؤس ریلوے، جو کہ پانچ سال سے زیر تعمیر ہے، 3 د سمبر سے ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔ یہ جدید ریلوے دونوں ممالک کے درمیان ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کی مشترکہ تعمیر کا پرچم بردار منصوبہ ہے اور دونوں ملکوں کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا تازہ ترین ثبوت ہے۔
چائنا-لاؤس ریلوے پہلی بین الاقوامی ریلوے ہے جو چینی سرمایہ کاری ،چینی تعمیراتی ٹیکنالوجی ،چینی معیارات اور چینی آلات کے استعمال پر مبنی ہے، یہ چینی ریلوے نیٹ ورک سے براہ راست منسلک ہوگی ۔اس ریلوے کی کل لمبائی 1,035 کلومیٹر ہے۔چین کے جنوبی شہر کھون منگ سے لاؤس کے دارالحکومت وینٹیانے تک جانے والی اس ریلوے پر چلنے والی ریل گاڑیوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
چینی صدر شی جن پھنگ ہمیشہ سے چین-لاؤس ریلوے کی تعمیر کے بارے میں فکر مند رہے ہیں۔ 2017 میں لاؤس کے اپنے دورے کے دوران، شی جن پھنگ نے لاؤس میڈیا میں شائع ہونے والے اپنے ایک دستخط شدہ مضمون میں خاص طور پر ذکر کیا: چین-لاؤس ریلوے، ٹرانس ایشین ریلوے نیٹ ورک کے ایک اہم حصے کے طور پر، لاؤس کے لیے بہت زیادہ اسٹرٹیجک اور عملی اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں فریقوں کو مجموعی طور پر ہم آہنگی کو مضبوط کرنا چاہیے اور جلد از جلد ریلوے پر آمد و رفت کو شروع کرنا چاہیے تاکہ لاؤس کو پڑوسی ممالک اور دنیا کے ساتھ رابطہ کے لئے بہتر سہولت میسر ہو سکے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چائنا-لاؤس ریلوے لاؤس کی کل آمدنی میں 21 فیصد اضافہ کرے گا اور سرمایہ کاروں کے لیے لاؤس کی کشش میں اضافہ کرے گا۔ لاؤس کی سیاحت کی صنعت کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال 4 ملین لاؤس اور 10 ملین ہمسایہ ممالک کے سیاح چائنا-لاؤس ریلوے کا استعمال کریں گے۔