چین اور روس کا ’’جمہوریت اور انسانی حقوق کے مسائل‘‘ پر مشترکہ سیمینار کا انعقاد

جنیوا (آئی این پی)  چینی و روسی مشنز نے’’جمہوریت اور انسانی حقوق کے مسائل‘‘ پر مشترکہ آن لائن سیمینار کا انعقاد کیا ۔جنیوا میں متعین پچاس سے زائد ممالک کے سفارتکاروں ، این جی اوز کے نمائندوں،اسکالرز اور صحافیوں سمیت ایک سو تیس سے زیادہ شخصیات نے اس سیمینار میں شرکت کی۔
جنیوا میں متعین چینی مشن کے قائم مقام سفیر لی سونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت تمام بنی نوع انسان کی مشترکہ قدر ہے اور انسانی حقوق تمام ممالک کے لوگوں کی مشترکہ خواہش ہیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق چند ممالک کا اثاثہ نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ممالک کے عوام کے مشترکہ حقوق اور مفادات ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی انداز اختیار کیا جائے ،عوام ہی ملک کے مالک ہیں اور یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ جب عوام کو مرکز ی حیثیت دی جاتی ہےتب ہی حقیقی اور جامع انسانی حقوق کا ادراک ہو تا ہے۔ کوئی ملک جمہوری ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ملک کے عوام کو کرنا چاہیے اور اگرجمہوریت کے حصول کے مختلف طریقہ کار کی وجہ سے انہیں اس میں سےخارج کر دیا جائے تو یہ غیر جمہوری ہے۔جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اورمحاذ آرائی کی صورتِ حال پیدا کرنا تباہی اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔
جنیوا میں متعین روس کے سفیر گاتیلوف نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی تلاش کے عمل میں مختلف ثقافتوں اور مختلف سماجی روایات پر غور کیا جانا چاہیئے۔ خود کو ’’جمہوریت کا گڑھ ‘‘ کہلوانے والے کچھ ممالک ،سرد جنگ کے نظریات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اورمختلف ممالک کے درمیان اختلافات کو بڑھا رہے ہیں۔