دہشت گردی کی امداد کو روکا جائے اور زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا جائے: خطبۂ حج

مکہ مکرمہ (آئی این پی )مسجد الحرام کے خطیب اور امام شیخ بندر بلیلہ نے خطبۂ حج میں کہا ہے کہ بندوں کی سلامتی، ملک کے استحکام اور لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں اور کاموں کی ادائیگی پر قادر بنانے کی کوشش کرنا بھی احسان میں داخل ہونا ہے۔ ساتھ ہی ان کے خون اور مال کی حفاظت کرنا، قوانین کی پابندی کرنا، اللہ کی نافرمانی کے علاوہ تمام معاملات میں ولاۃ امر(حکمرانوں ) کی اطاعت کرنا ہے۔
امام شیخ بندر بلیلہ نے خطبے میں کہا کہ  یہ باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ حقوق کی حفاظت کی جائے، فتنوں کے اسباب کو چھوڑا جائے، دوسروں کو تکلیف دینے کو حرام سمجھا جائے، دہشت گردی کی امداد سے روکا جائے اور زمین پر فساد پھیلانے سے منع کیا جائے۔خطبہ کے بنیادی موضوع  احسان  پر خطاب کرتے ہوئے امام شیخ بندر بلیلہ نے قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ احسان عبادات و معاملات، ارکان اسلام و ارکان ایمان اور دینی امور و انسانی اخلاقیات میں شامل ہے۔
امام شیخ بندر بلیلہ خطبے میں کہا کہ اللہ نے مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ملازمین اور مزدوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے،ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئے اور کام کے عہد و پیمان میں طے شدہ شرائط کو پورا کرے۔ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ملازمین اور مزدوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے،ان سے نرمی کے ساتھ پیش آئے اور کام کے عہد وپیمان میں طے شدہ شرائط کو پورا کرے۔

خطبے میں مزید کہا گیا کہ مسلمان اس بات کا شدید خواہش مند ہوتا ہے کہ اس کے احسان سے ماحول بھی محفوظ ہو، چنانچہ وہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور فساد نہیں پھیلاتا ہے۔  اس لیے اللہ تعالى نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو زمین پر فساد پھیلانے کی کوشش کرتا ہے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔
مسجد الحرام کے خطیب اور امام شیخ بندر بلیلہ نےاحسان پر گفتگو کا خاتمہ خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی خدمات اور احسانات کے ذکر پر کیا۔
انہوں نے کہا کہ احسان کرنے والوں میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان ہیں کہ انہوں نے حاجیوں کے معاملات کی دیکھ بھال کی، حرمین شریفین کی ذمہ داری اٹھائی، ان میں امن کی حفاظت کرنے کی اور ایسے لوگوں کو مقرر کیا جو حج اور عمرہ کرنے والوں کے ساتھ احسان کریں۔ ساتھ ہی وہ اس بات کے شدید خواہش مند ہیں کہ موسم حج کو بیماریوں کے پھیلاؤ کی جگہ یا وباؤں کی آماجگاہ بننے سے بچایا جائے اور صحت مند طریقے سے شعارِ حج کو قائم کیا جائے کہ بچاؤ اور سماجی دوری کے تقاضے پورے ہوں، تاکہ جان کی حفاظت سے متعلق شریعت کے مقاصد مکمل ہوں۔ اور پیغمبر اسلام کے اس فرمان پر عمل درآمد ہو جس میں آپ نے فرمایا:  جب تم کسی جگہ طاعون کے بارے میں سنو، وہاں داخل نہ ہو اور جب کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم وہاں ہو، تو وہاں سے نہ نکلو ۔