رئیس عام کی اس سال محدود تعداد کے ساتھ حج قائم کرنے کے مملکت کے فیصلے کی تعریف

مکہ مکرمہ (آئی این پی )الرئيس العام يشيد بقرار المملكة بإقامة حج هذا العام بأعداد محدودة، ويؤكد أنه قرار حكيم ينطلق من أصول الشريعة الإسلامية في إقامة الشعائر والحفاظ على الصحة العامة للمواطنين والمقيمين
اس سال محدود تعداد کے ساتھ حج قائم کرنے کے مملکت کے فیصلے کو رئیس عام نے سراہا ۔آپ نے زور دیا کہ اس حکیمانہ فیصلے کے پیچھے مقیمین اور شہریوں کی صحت کی حفاظت اور شعائردین کے قائم کرنے کے سلسلے میں اسلامی شریعت کے اصول کارفرما ہیں ۔
أشاد معالي الرئيس العام لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي الشيخ الأستاذ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالعزيز السديس، بقرار قصر حج هذا العام ١٤٤٢هـ، على المواطنين والمقيمين داخل المملكة العربية السعودية، وتحديد عدد الحجاج بإجمالي (٦٠) ألف حاج، نظرًا لاستمرار تطورات جائحة كورونا كوفيد-١٩، وظهور تحورات جديدة له حول العالم.
مسجد حرام و مسجد نبوی کے امور کے رئیس عام عالی وقار شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزيز السدیس نے اس سال 1442 ہجری کےحج کو پوری دنیا میں کرونا کووڈ 19 کی وبا کے لگاتار ارتقاء اور نئی نئی شکلوں کے نمودار ہونے کی وجہ سے صرف مملکت سعودی عرب کے اندر موجود شہری اور مقیمین کے لیے 60 ہراز کی تعداد میں محدود کرنے کے فیصلے کو سراہا ۔
وأكد معاليه أن من توفيق الله وكرمه أن وفق حكومة خادم الحرمين الشريفين –أيدها الله- لإقامة شعيرة حج هذا العام مع ظروف جائحة كورونا، فالمملكة العربية السعودية تضع سلامة وأمن وأمان الحجاج في أولوية اهتماماتها وفوق كل اعتبار، وأنها بهذا الإجراء الموفق حفظت شعيريتين إسلاميتين في غاية الأهمية أولاهما: إقامة الشعيرة والركن الخامس من الإسلام، وثانيهما: حفظ النفس البشرية التي جاء الإسلام بحفظ حقوقها وصيانتها، قال الله سبحانه وتعالى: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ)، وعن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:(العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة).
شیخ عالی وقار نے زور دیا کہ یہ اللہ کی توفیق اور اس کی مہربانی ہے کہ اس نے خادم حرمین شریفین کی حکومت کو اس کرونا وباکی موجودہ صورت حال کے باوجود شعیرہ حج کے قائم کرنے کی توفیق دی ۔ مملکت سعودی عرب حاجیوں کے امن و امان اور ان کی سلامتی پر سب سے زیادہ دھیان صرف کرتی ہے اور کسی بھی چيز سے زیادہ اس کا اعتبار کرتی ہےاور اس نے اس درست فیصلے سے دو انتہائی اہم اسلامی شعائر کی حفاظت کی ہے ۔ 1 ۔ اسلام کےپانچویں رکن اور شعیرہ کو قائم کرنا ۔2 ۔ انسانی جان کی حفاظت کرنا جس کے حقوق کی حفاظت و نگہداشت کے لیے اسلام آيا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے :
"صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے واﻻ ہے”
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ( کے گناہوں ) کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں )
كل ذلك لأجل ضمان تأدية مناسك الحج وتيسيرها وفق نموذجٍ أمثل، في ظل المستجدات المتسارعة المصاحبة لذلك الوباء، ومدى تقدم دول العالم في تحصين مواطنيها والمقيمين فيها، وعدد الإصابات فيها، مع استصحاب التحذيرات من خطورة ازدياد تفشي العدوى والإصابة في التجمعات البشرية، الصادرة من منظمة الصحة العالمية، ومن الجهات المعنية في المملكة وفي عديد من الدول.
اس وبا کی نت نئی تیز تبدیل ہونے والی شکلوں کے بیچ ، دنیا بھر میں ملکوں کےاپنے شہریوں اور مقیمین کی ٹیکہ کاری میں ان کی پیش رفت اور متاثرین کی تعداد کے پیش نظر ،اس وبا کے پھیلنےکے خطرات اور انسانی اجتماعات کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، مملکت سعودی عرب اور دوسرے متعدد ممالک کے متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کی گئی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ سب اس لیے کیا گيا ہے کہ بہترین طریقے کے مطابق مناسک حج کی ادائيگی اور آسانی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

وأكد الشيخ السديس أن الرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي مستعدة تمام الاستعداد لاستقبال حجاج هذا العام وفق الإجراءات الاحترازية والتدابير الوقائية والبرتوكولات الصحية، التي تضمن سلامة البلاد والعباد بحول الله -عز وجل-.
شیخ نے زور دے کر کہا کہ رئاسہ عامہ برائے امور مسجد حرام اور مسجد نبوی اس سال ان احتیاطی تدابیر ، بچاؤ کے اقدامات اور صحت کے پروٹوکول کے مطابق حاجیوں کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہے جو اللہ کی قوت و مرضی سے بندوں اور ملکوں کی سلامتی کے ضامن ہیں ۔

وفي الختام دعا معاليه بأن يحفظ خادم الحرمين الشريفين الملك سلمان بن عبدالعزيز، وولي عهده الأمين صاحب السمو الملكي الأمير محمد بن سلمان -حفظهما الله- على ما يقدمونه من حرص واهتمام للحرمين الشريفين وقاصديهما.
اخیر میں شیخ نے دعا کی کہ حرمین شریفین اور ان کے حاجیوں کے لیے پیش کی جاری کا وش و عنایت پر اللہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، ان کے امین ولی عہد محمد بن سلمان کی حفاظت فرمائے ۔