وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب پرسکیورٹی سمیت متعدد معاہدے ہوں گے

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے ،ان میں سلامتی، میڈیا، ماحولیاتی تبدیلی اور دونوں ممالک کی سپریم کوارڈینیشن کونسل کے درمیان معاہدے شامل ہیں۔عرب ویب سائیٹ کے مطابق اسلام آباد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں سے دونوں ممالک اور ان کے عوام براہ راست مستفید ہوں گے۔سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک خطے کی صورت حال اور کورونا کی وبا کے دوران اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دورے سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے حصول اور اسلامی دنیا کا پیغام آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتے ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی حکام نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان 7 سے 10 مئی تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے۔ جمعے کو اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات بھی کی تھی۔اس دورے کے حوالے سے سعودی سفیر نے عرب ویب سائیٹ کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون ان کے گہرے تعلقات کا عکاس ہے، سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہرسطح کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے خاص طو پر تجارتی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور تزویراتی تعلقات میں مزید بہتری کا خواہش مند ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں مزید بہتری ہو سکتی ہے خاص طور پر توانائی کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی، زرعی اور مواصلات کے شعبوں میں مزید تعاون ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ثقافتی شعبے، ابلاغ کے شعبے اور حج اور عمرہ کے حوالے سے بھی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے جیسا کہ مکہ روڈ پروجیکٹ اور دیگر مشترکہ منصوبوں پر کام ہو سکتا ہے۔سعودی سفیرنے بتایا کہ دوورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی گرین اور مڈل ایسٹ گرین اقدام کا ہدف مملکت میں 10 ارب درخت اور دیگر عرب ملکوں کے ساتھ مل کر 40 ارب درخت لگانا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور زمین کی ساخت میں منفی تبدیلی کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کا وژن وزیراعظم پاکستان کے کلین اینڈ گرین اقدام سے مماثلت رکھتا ہے جس کے تحت ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے قدرتی طور پر نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ان اقدامات میں تعاون کر سکتے ہیں۔

نواف بن سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی تقریبا 20 لاکھ افراد پر مشتمل ایک بڑی کمیونٹی ہے جو کہ سعودی ولی عہد کے ویژن 2030 کے منصوبوں کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کمیونٹی خود بھی ویژن 2030کے نتیجے میں متعارف کروائی جانے والی سہولیات سے مستفید ہو رہی ہے۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے لوگوں کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں جن کی بنیاد سب سے بڑھ کر مذہبی رشتہ ہے۔ ہر پاکستانی شہری کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین جائے۔ دونوں اقوام کے درمیان براہ راست رابطہ ہے چاہے وہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی افواج کے ذریعے ہو یا پھر حج اور عمرہ زائرین کے ذریعے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مستقبل میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہر دستیاب ذریعے سے رابطے بڑھانے کا خواہش مند ہے تاہم فی الحال کورونا بحران کی وجہ سے صحت و سلامتی کی صورت حال درپیش ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

وزیر اعظم نے اب تک سب سے زیادہ دورے بھی سعودی عرب کے کیے ہیں۔وزیراعظم کی دعوت پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا تاریخی دورہ بھی کر چکے ہیں جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون اور تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے پر اتفاق ہوا تھا۔دورے کے بعد دونوں ممالک نے ایک سپریم کوآرڈینیشن کونسل قائم کی تھی تاکہ ولی عہد کے دورے کے دوران طے پانے والے 21 ارب ڈالر کے منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔