چینی نوجوان روشن مستقبل کے خواب تخلیق کرتے ہیں,چینی صدر

فائل فوٹو، چین ، دارالحکومت بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے صدر، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ کمیونسٹ یوتھ لیگ آف چائنہ کے 100 ویں یوم تاسیس سے خطاب کررہے ہیں۔ (شِنہوا)

بیجنگ (شِںہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی امیدیں لامحدود ہیں اور وہ ایک روشن مستقبل کے خواب تخلیق کرتے ہیں۔  قوم ترقی اور خوشحالی کی منزل اس وقت حاصل کرتی ہے جب وہ اپنے نوجوانوں کی امیدیں پوری کرے اور ان کی جوانی کی قوت برقرار رکھے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی نے یہ بات کمیونسٹ یوتھ لیگ آف چائنہ کے صد سالہ  یوم تاسیس پر بیجنگ کےعظیم عوامی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں کمیونسٹ یوتھ لیگ آف چائنہ کی صد سالہ تقریب میں جمع ہیں تاکہ لیگ کے ارکان اور نوجوانوں کو قومی احیاء کے چینی خواب کو پورا کرنے  کےنئے سفر پر آگے بڑھنے کی ترغیب دے سکیں ۔

شی نے اپنے خطاب میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کی طرف سے لیگ کے تمام ارکان کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ یوتھ لیگ کی ہرسطح کی تنظیموں اور عملے کو صدق دل سے مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ چینی قوم ایک قدیم قوم ہے جس کی طویل اورمستحکم تاریخ ہے  اس نے کئی برسوں  تک نشیب و فراز کا تجربہ کیا ۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک جواں قوم بھی ہے جو مسلسل خود کوبہتر بنانے کی تگ دو کرتی اور متحرک رہتی ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ 5 ہزار برس سے زیادہ کی تہذیب کے ساتھ ہماری قوم طویل عرصے سے اس روایتی عقیدے کو پسند کرتی رہی ہے کہ ہیرو چھوٹی عمر سے تیار کئے جاتے ہیں اور اس نظریہ کو اپناتے ہیں پچھلی لہریں آگے والوں کے ساتھ چلتی ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ ایک قوم اس وقت مضبوط ہوگی جب اس کے نوجوان مضبوط ہوں گے اور ایک قوم اسی وقت ترقی کرے گی جب اس کی نوجوان نسلیں ترقی کرے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ہماری قوم کے مستقبل کا انحصار نوجوانوں پر ہے۔ سینکڑوں برس سے نوجوانوں کی طاقت، زندگی اور تخلیقی صلاحیت ایک زبردست قوت رہی ہے جو ہماری قوم کو تمام چیلنجوں کے خلاف آگے بڑھاتی اور اسے اقوام عالم میں ممتاز طرز سے کھڑا ہونے کے قابل بناتی ہے۔

نوجوانوں کی قسمت ہمیشہ وقت سے جڑی ہوتی ہے۔  1840ء کی افیون جنگ کے بعد چین بتدریج نیم نوآبادیاتی، نیم جاگیردارانہ معاشرے میں تبدیل ہوا اور اسے پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک کو شدید ذلت برداشت کرنا پڑی، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور چینی تہذیب تاریکی میں ڈوب گئی۔

بہت سے محب وطنوں نے قوم کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ کئی ترقی پسند نوجوان اس "بیداری کے دور” میں روشن خیال تھے۔

گریٹ مئی فورتھ موومنٹ نے چین میں مارکسزم کے پھیلاؤ کو فروغ دیا جس سے  نیا جمہوری انقلاب شروع ہوا اور چین میں سماجی تبدیلیوں کو آگے بڑھانے والے بانیوں کی حیثیت سے نوجوانوں کا کردار شروع ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں شعور اجاگر ہونے اور ترقی یافتہ نظریات کے پھیلاؤ سے انقلاب تیزی سے چین کی وسیع سرزمین پر پھیل گیا۔ جب مارکسزم ۔ لینن ازم چینی مزدوروں کی تحریک کے ساتھ مربوط ہوا تو اسی دوران کمیونسٹ آف چائنہ کا جنم ہوا۔

پارٹی نے اپنے قیام سے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی اور انہیں انقلاب کی امید قرار دیا۔

اپنی پہلی قومی کانگریس میں پارٹی نے یوتھ لیگ کے قیام اور ترقی کا خاص مطالعہ کیا تاکہ یہ پارٹی کی ابتدائی درس گاہ بن سکے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی براہ راست قیادت اور نگرانی میں 5 مئی 1922 کو کمیونسٹ یوتھ لیگ آف چائنہ کی بنیاد رکھی گئی جو چین کے انقلاب اور نوجوانوں کی تحریک کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔