چین کے روور نے مریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد تلاش کرلیے: تحقیق

چین کے قومی خلائی انتظامی ادارے( سی این ایس اے) کی جانب سے جاری کردہ اس تصویر میں چین کے پہلے مریخ روور ژورونگ کی اپنے لینڈنگ پلیٹ فارم کے ساتھ سیلفی کو دکھایا گیا ہے۔(شِنہوا)

بیجنگ(شِنہوا) چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا اور یہ کہ اس سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

جمعرات کو جریدے سائنس ایڈوانسز ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں  ایمیزونیائی دور کے دوران مائع پانی موجود تھا۔

یہ نتائج  ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ  مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی۔

تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے ماتحت ادارے، نیشنل اسپیس سائنس سنٹر کے محققین نے اس تحقیق کے لیے مریخ کے شمالی نصف کرہ میں واقع  وسیع میدان، جنوبی یوٹوپیا پلانیٹیا کی چٹانوں اور معدنی خصوصیات سے متعلق چین کے مریخ پر موجود  ژورونگ  روور کی جانب سے  جمع کردہ اعدادوشمار کو استعمال کیا۔