سی پیک کے کروٹ پن بجلی منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے سخت اقدامات

اسلام آباد(شِنہوا) پنجاب کے علاقے کروٹ کی پہاڑیاں اب بھی سرسبز و شاداب ہیں، جن کی وادیوں سے دریائے جہلم پہلے جیسی روانی سے بہہ رہا ہے۔

اس مقام پر دریائے جہلم کے پانیوں پر کروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی تعمیر جاری ہے،جو اس دریا پرتعمیر ہونے والے پانچ پن بجلی منصوبوں میں سے چوتھا منصوبہ ہے۔ اب تک اس منصوبے کا تقریباً 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

چین کے مجوزہ  بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے(بی آر آئی) کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے اس 1ارب 74 کروڑ امریکی ڈالر لاگت کے اس فلیگ شپ منصوبے پر  چائنہ تھری گورجز کارپوریشن نے سرمایہ کاری کی ہے۔

ہفتہ کو، 720 میگا واٹ صلاحیت کے اس ہائیڈرو پاور سٹیشن کی ڈائیورژن ٹنل کے دروازے کامیابی کے ساتھ بند کرتے ہوئے جھیل میں پانی کی بھرائی کا عمل شروع کیا گیا تھا،جو اس منصوبے کے یونٹس سے بجلی پیدا کرنے سے پہلے ایک اہم قدم ہے۔

    سائٹ پر موجود اپنے تقریباً 3ہزار پاکستانی اور چینی ساتھی کارکنوں کی طرح، 2016 سے اس منصوبے پر کام کرنے والی ماحولیاتی انجینئر مریم سلیم ملک، اس  سنگ میل کو حاصل کرنے پر بہت پرجوش اور خوش تھیں۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ  پانی کو جھیل میں روکنے سے دریا کے نچلے حصے میں  مچھلیوں کا تحفظ متاثر نہیں ہوگا،یہ بھی مریم سلیم ملک کے کام میں شامل ہے۔

ماحولیاتی پالیسی اور منیجمنٹ میں ماسٹر ڈگری کرنے والی مریم سلیم ملک نے  شِنہوا کو بتایا کہ   آبی ذخیرہ میں پانی جمع کرنے سے دریا کے تقریباً چار کلومیٹر طویل حصے میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہو جائے گی، لیکن یہ مسئلہ تقریباً 28 گھنٹوں میں خود بخود حل ہو جائے گا جب منصوبے کی جھیل  میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اسپل وے سے پانی کا اخراج شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس دورانیہ کے دوران دریاکی آبی حیات کی حفاظت کے لیے، پروجیکٹ نے تقریباً 100 افراد کوپانی بھرنے کاعمل شروع ہونے کے بعد دریا کے زیریں حصے میں پانی کے چھوٹے چھوٹے تالابوں  یا پتھروں کے درمیان پھنسی مچھلیوں کی تلاش پر مامور کیا ہے۔

کروٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے انوائرنمنٹ، سوشل اور سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے  چیف سیفٹی آفیسر اورمنیجر ژانگ شیانگ جون نے کہا کہ کروٹ پراجیکٹ کے تحت  دریا میں مچھلیوں کی اقسام کی نگرانی کے لیے ایک مقامی کمپنی کی خدمات بھی حاصل کی ہیں تاکہ پانی کی بھرائی کے بعد کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس کے مطابق اقدامات کیے جاسکیں۔