سینیٹ کمیٹی دفاع کا افغان صورت حال پر پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد(آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے افغانستان کی موجودہ صورت حال پر غور کے لیے پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لئے افغان سر زمین استعمال نہ ہو، کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت کے 87 ٹریننگ کیمپ پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں، 66 بھارتی ٹریننگ کیمپ افغانستان میں ہیں، افغانستان میں عبوری حکومت کے لیے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، طالبان نے بھی کہا ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، باہر کا کوئی ملک افغان حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کریں۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں مشاہد حسین سید کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ہوا جس میں افغانستان کے حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور موجودہ صورت حال پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی افعانستان کے حوالے سے پالیسی واضح ہے، ہم افغانستان میں اتحاد، علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی حمایت کرتے ہیں، افغانستان میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے پرامن سیاسی تبدیلی وسیع البنیاد اتفاق پر ہونی چاہیے، افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لئے افغان سر زمین استعمال نہ ہو۔کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت کے 87 ٹریننگ کیمپ پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں، 66 بھارتی ٹریننگ کیمپ افغانستان میں ہیں، افغانستان میں عبوری حکومت کے لیے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں،افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت بنائیں جو سب کی نمائندہ ہو، طالبان نے بھی کہا ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، باہر کا کوئی ملک افغان حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کریں۔