چین کا ساہیوال پاور اسٹیشن کو گرین کول پاور میں تبدیل کرنے پر غور

صوبہ پنجاب میں ساہیوال پاور پلانٹ کا منظر۔(شِنہوا)

بیجنگ(آئی این پی ) چین نے ساہیوال پاور اسٹیشن کو گرین کول پاور میں تبدیل کرنے پر غور کرتے ہوئے کہا ہے کہ،چین میں نئی کامیا بی سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں انتہائی کم حتی کہ کاربن کے صفر اخراج کو بھی حاصل کرنا ممکن ہے،پاکستان چین کی کاربن کے صفر اخراج کی کامیابی سے سیکھ سکتا ہے،ہم اپنے تحقیقاتی نتائج ، ٹیکنالوجی اور آلات اپنے آ ہنی بھائی کے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گے۔گوادر پرو کے مطابق چین نے تیانجن میں واقع ایک انٹیگریٹڈ گیسیفیکیشن کمبائنڈ سائیکل (IGCC) پاور اسٹیشن سمیت گرین کول پاور کی آزادانہ طور پر تحقیق اور تعمیر کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مشکل ہونے وجہ سے صرف چند مغربی ممالک نے ہی آئی جی سی سی تیار کیا ہے ۔تیانجن آئی جی سی سی پروجیکٹ کے نائب صدر وانگ سیانگ پنگ نے کہا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اس پروجیکٹ کو مکمل کررہے ہیں ، ہم اپنے تحقیقاتی نتائج ، ٹیکنالوجی اور آلات اپنے آ ہنی بھائی کے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گے ۔ تیانجن آئی جی سی سی ، چا ئنہ ہواینگ گروپ (سی ایچ این جی)) کا تعمیر کردہ ایک کلین انرجی پاور جنریشن کا پروجیکٹ ہے ، جس کا آغاز 2005 میں کیا گیا تھا اور اسے 6 نومبر 2012 فعال کیاگیا تھا۔ آئی جی سی سی جدید ٹیکنالوجی ہے اور صرف چند مغربی ممالک نے اس بارے سوچا اور اسے خفیہ رکھا ہے۔ لہذا سی ایچ این جی نے اسے آزادانہ طور پر تیار کیا ہے اور اب ہم نے پہلے ہی ٹیکنالوجی میں پوری مہارت حاصل کرلی ہے۔تیانجن آئی جی سی سی پاور اسٹیشن کو نومبر 2012 میں فعال کیا گیا تھا۔ 265000 کلو واٹ کی نصب شدہ گنجائش کے ساتھ یہ ماحول دوست کوئلہ سے چلنے والا ایک بجلی گھر ہے جس کے دو مراحل ایک پریشر کے زریعے خشک کوئلے کو گیس میں تبدیل کیا گیا ہے اور دوسرا کافی جدید ترین ٹیکنالوجی اپنائی گئی ہے۔ آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ ، کوئلے کو جلانے سے پیدا ہونے والی فضلہ گیس کو فلٹر کیا جاتا ہے اور ان کو اعلی میعار کی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں صاف کیا جاتا ہے ، جس کے بعد اسے صنعتی خام مال کے طور پر اکٹھا اور محفوظ کیا جاتا ہے۔ سی ایچ این جی کا تیانجن آ ئی جی سی سی پروجیکٹ مکمل ہوتا رہا ہے اور اس نے اس ٹیکنالوجی کا ایک نیا مرحلہ حاصل کیا ہے۔ 2018 میں یہ پروجیکٹ مسلسل 166 دن تک چلتا رہا ، جس نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا ، اور 2020 میں یہ پہلی بارسارا سال نان اسٹاپ رہا۔ ایک ہی وقت میں بہتر ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعہ ، بجلی کی پیداوار ی لاگت کو بہت کم کیا گیا ہے۔ وانگ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ پاکستان میں انکے منصوبے ساہیوال پاور اسٹیشن پر غورکیا جا رہا ہے اور چین میں ان کی نئی کامیا بی سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں انتہائی کم حتی کہ کاربن کے صفر اخراج کو بھی حاصل کرنا ممکن ہے۔