ٹروڈو نے مسلمان خاندان کو ٹکرمارکرقتل کرنے کو دہشت گرد حملہ قرار دے دیا

اوٹاوا(شِنہوا)کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہاہے کہ کینیڈا کے صوبہ انٹاریو کے لندن میں اتوار کے روز  مسلمان خاندان کے 4 ارکان کو ٹکرمار کر قتل کرنے اور فرار ہونے کو مذہبی نفرت سے حوصلہ افزائی پانے والا دہشت گردحملہ قرار دے دیا ہے۔

 دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے  ٹروڈو نے کہاکہ یہ قتل حادثہ نہیں تھا،یہ دہشت گردی کا ایک حملہ تھا،یہ سفاکانہ،بزدلانہ اور بے باک حملہ تھا جو کہ لندن میں چہل قدمی کرنے والے خاندان کیخلاف تھا جس میں 4افراد ہلاک اور 1شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے کہاکہ ڈرائیور 20 سالہ شخص ہے جس نے متاثرین کو اسلامی مذہب کی وجہ سے جان بوجھ کر ہدف بنایا،حملے کے حوالے سے اس پر پہلی ڈگری کے 4قتل اور قتل کی ایک کوشش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ٹروڈو نے کہاکہ یہ حملہ ایک بار نہیں ہوا،انہوں نے حالیہ سالوں میں مسلمان مخالف تشدد پھیلنے کے مختلف واقعات کا حوالہ دیا  جن کی وجہ سے زندگیاں ضائع ہو ئیں ،ان سے کینیڈا میں اسلاموفوبیا کی پریشان کن لہر واضح ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ ان سب کو مسلمان مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا،یہ یہاں کینیڈا میں ہورہاہے اور اسے روکنا ہوگا۔

ٹروڈو نے کہاکہ کینیڈا کے شہریوں کومسلمانوں کیخلاف تشدد کے  بدشکل، پھیلنے والے رجحان کامقابلہ کرنے کیلئے اکٹھا ہونا ہوگاجس سے کینیڈا کے معاشرے کے تحفظ کو خطرہ ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس طرح کے حملے کو زہریلی بیان بازی اور امتیازی سلوک اور آن لائن  انتہا پسندی سے تقویت ملتی ہے جسے بدترین ہونے کی اجازت دی گئی ، انتہائی بائیں بازو کے نفرت انگیز گروہوں کو ختم کرنے کیلئے حکومتی کوششوں کو دوبارہ دوگنا کرنے کاعزم کیاہے جو ایسی پرتشدد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عوامی تحفظ کیلئے خطرہ رہتے ہیں۔