حکومت مشکل وقت سے نکل آئی، اگلے سال شرح نمو میں مزید اضافہ ہوگا، وزیراعظم

زیارت (آئی ا ین پی ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق حکومت بھاری قرضے چڑھا کر گئی، ہم نے سخت مشکلات کے باوجود ملکی معیشت کو درست کیا، خوشخبری ہے کہ مشکل وقت سے ہمارا ملک نکل گیا ہے، اگلے سال شرح نمو میں مزید اضافہ ہوگا، بلوچستان میں جتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود ایف اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں، مشکل حالات کے باوجود بلوچستان کو جنتا بھی ہو سکے، انہیں فنڈز دیے ہیں، بلوچستان پر جو پیسہ خرچ کیا جانا چاہتا تھا، وہ بھی صحیح طریقے سے خرچ نہیں کیا گیا، پیسہ صحیح معنوں میں خرچ ہو جاتا تو بلوچستان کے حالات بہت بہتر ہونے تھے۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان نے زیارت میں قائد اعظم ریذیڈینسی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پہلی بار بلوچستان میں اتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا، مشکلات کے باوجود بلوچستان حکومت کے ساتھ مدد کر رہے ہیں جبکہ پچھلی حکومتوں نے اتنا قرضہ چڑھایا کہ ان قرضوں کے سود میں بہت سا پیسہ چلا جاتا ہے اور ملک کا پیسہ خرچ کرنے کیلئے کم رہ جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا اور ماضی میں جو پیسے دیئے گئے وہ بھی صحیح سے خرچ نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصے سے یہاں ایسے لوگ رہے جنہوں نے کچھ نہیں کیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کا نام بھی نہیں لینا چاہتا کیونکہ مولانا فضل الرحمان عزت کے قابل بھی نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ ملک بہت بڑی مشکل سے باہر نکل گیا ہے لیکن ہمارے مخالف نے پہلے سے ہی شور مچایا ہوا ہے کہ حکومت فیل ہو گئی اور حکومت آئی ہی نہیں تھی انہوں نے کہا کہ فیل ہو گئی، اپوزیشن کو معلوم تھا کہ اگر ہماری حکومت اس معاشی بحران سے کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی، اڑھائی سال تک لوگوں سے کہا کہ ملک تباہ ہو گیا، معیشت تباہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی گروتھ بہتر ہو گئی ہے، پہلے صفر اعشاریہ ایک فیصد پر تھا، اب ملکی معاشی گروتھ چار فیصد پر ہے، جس پر اپوزیشن نے اب کہنا شروع کردیا ہے کہ یہ گروتھ ریٹ فیک ہے، اپوزیشن آج بہت مشکل میں پڑی ہے اور ان پر ترس آتا ہے، ہر وقت کہتے ہیں کہ تین ماہ حکومت ختم ہو جائے گی، اکتوبر میں ختم ہو جائے گی لیکن مجھے تو اب یکر ہے کہ کیا یہ اپوزیشن اب ساتھ رہ جائے گی کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے اور جب ہماری اگلی حکومت آئے گی معیشت اور بھی اوپر جائے گی کیونکہ میں قوم کیلئے پیسہ بنانے آیا ہوں اپنی ذات کیلئے کوئی پیسہ نہیں بنارہا ہوں، لندن میں بڑے محلات خریدنے کی خواہش نہیں ہے اور نہ یہ لندن میں بیٹھ کر اپنے ملک کے بہتر بنانے کی کوشش کروں گا کیونکہ دنیا میں وہ ہی لیڈرز کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں رہ کر قوم کی خدمت کی ہے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک بندہ ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر لے جائے اور ملک ترقی کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ہیلتھ سسٹم لا رہے ہیں، زیارت میں ایل پی جی پلانٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ جلد لایا جا رہا ہے اور بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں غربت کم کرنے کیلئے احساس پروگرام لایا گیا اور نوجوانوں کو قرض فراہم کئے جا رہے ہیں