چین ، طبی صنعت کی عالمی وبا کے دوران ڈیجیٹل تبد یلی

چین کے مشرقی صوبہ فوجیان کے فوژومیں چوتھے ڈیجیٹل چا ئنہ سر براہی اجلاس کے دوران ڈیجیٹل کامیابیوں کی نمائش میں ایک ہائی ٹیک کمپنی نوول کروناوائرس نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹنگ کے لئے موبائل لیب دکھا رہی ہے۔(شِنہوا)

فوژو (شِنہوا) چین کی جانب سے نوول کرونا وائرس کی روک تھام اور کنٹرول میں بگ ڈیٹا کی وسیع  ایپلی کیشن  نے طبی صنعت میں تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دیا ہے ۔

رواں ہفتے ختم ہو نے والے چوتھے ڈیجیٹل چائنہ سربراہی اجلاس میں جاری ہونے والی چین کی سائبر اسپیس انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق انفرادی نوول کرونا وائرس ٹیسٹ کے نتائج اور سفر کے اعداد و شمار کو ظاہر کر نے والا قومی کیو آر صحت کوڈ 60 ارب سے ز ائد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ چین کے صحت حکام نے تصدیق شدہ اور مشتبہ نوول کرونا وائرس کیسز سے قریبی رابطوں کا پتہ چلانے کے لئے اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعہ طبی سامان کی فراہمی کو مختص کرنے کے لئے بگ ڈیٹاکا استعمال کیا ہے۔

سربراہی اجلاس کے نمائش ہال میں 5 جی سے منسلک ایمبولینس تھی ، جو ہائی ڈیفینیشن ویڈیو کے ذریعہ ریئل ٹائم میں خصوصی ریموٹ معاونت وصول کرتی ہے ، اور ایک آئی سی یو وارڈ ، جو مریضوں کی ریئل ٹائم تصاویر ڈاکٹرز کو منتقل کرنے والے 360 ڈگری کیمرہ سے لیس ہے۔2020 میں نوول کروناو ائرس کے پھیلاؤ کے موقع پر اسی طرح کےوی آر قرنطینہ وارڈز نے طبی ماہرین کو بغیر کسی رابطے کے مریضوں سے روبرو  مشورے کرنے کا موقع فراہم کیا ۔

چین کے قومی صحت کمیشن کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار 100 سےزائد انٹرنیٹ اسپتال تعمیر ہوچکے ہیں ، اور صوبائی سطح کے 30 علاقوں میں آن لائن طبی خدمات کے لئے نگرانی پلیٹ فارمز قائم کیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی ظاہر گیا ہے کہ چین کے تمام پریفیکچر سطح کے شہروں میں ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک اب 24ہزار سے زیادہ طبی اداروں کا احاطہ کرتا ہے۔