چینی وزیر خارجہ نے تائیوان پر جی سیون کے بیان کو سختی سے مسترد کردیا

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو، امریکی صدر جوبائیڈن، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، فرانسیس صدر ایمانوئیل میکرون، جرمن چانسلر انجیلا مرکل،(بائیں سے دائیں، سامنے) یورپی کونسل کے صدر چارلز مچل، جاپانی وزیراعظم یوشیدے سوگا،اٹلی کے وزیراعظم ماریو دراگی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈیر لین (بائیں سے دائیں،پیچھے) برطانیہ کے کورن وال میں کاربِس خلیج میں تصویر بنوارہے ہیں۔(شِنہوا)

پنوم پن(شِنہوا)چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے گروپ آف سیون (جی سیون) کے وزرائے خارجہ کے تائیوان سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کردیا۔ وانگ نے مشرقی ایشیا تعاون پر وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ آبنائے تائیوان پر موجودہ تناؤ کے اثرات بالکل واضح ہیں،اسی طرح درست اور غلط بھی۔ یہ امریکہ ہے جس نے مصیبت شروع کی، بحران پیدا کیا، اور مسلسل کشیدگی کو بڑھایا۔

انھوں نے پوچھا  امریکہ کی طرف سے واضح اشتعال انگیزی نے ایک بہت بڑی مثال قائم کی ہے۔ اگر اسے درست نہیں کیا گیا اور اس کا مقابلہ نہیں کیا گیا تو کیا اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا اصول اب بھی موجود رہے گا؟ کیا بین الاقوامی قانون کو اب بھی برقرار رکھا جائے گا؟ علاقائی امن کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟۔ وانگ نے زور دے کر کہا کہ جی سیون وزرائے خارجہ کا بیان حقائق کو مسخ کرتا ہے اور صحیح اور غلط کو الجھاتا ہے۔  انہیں یہ حق کہاں سے ملا کہ وہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے چین کے معقول اور قانونی اقدامات پر بے بنیاد تنقید کریں؟ انہیں یہ اختیار کس نے دیا؟ کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو تحفظ دیا جاتا ہے جبکہ محافظ پر الزام لگایا جاتا ہے؟ ۔ اس بات  کا ذکر کرتے ہوئے کہ جی سیون کی غلط حرکتوں نے چینی عوام میں شدید غصے کو جنم دیا ہے، وانگ نے کہا کہ چین اور دیگر ممالک کی خودمختاری اور آزادی عوام کی طرف سے لڑی گئی خونریز لڑائیوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہے اور اس کی دوبارہ کبھی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کا چین اب 19ویں صدی کا چین نہیں رہا اور تاریخ کو اپنے آپ کو نہیں دہرانا چاہیے اور نہ ہی دہرایا جائے گا۔