سی پیک سے معاشی خوشحالی میں بدلتا بلوچستان

جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ اور پاکستانی شہری پر وحشیانہ حملے نے ایک بار پھر پاک ۔ چین مخلصانہ اور سدا بہار دوستی کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں  کہا جاتا ہے کہ یہ شہد سے زیادہ میٹھی ، ہمالیہ سے زیادہ بلند اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔

اس حملے میں قیمتی جانیں گئیں جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے چینی اساتذہ پر اس گھناؤنے حملے نے سب کو غم و صدمے میں مبتلا کردیا، یہ بے گناہ افراد اپنا وطن چھوڑ کر صرف اور صرف پاکستانیوں کے روشن مستقبل میں اپنا کردارنبھانے آئے تھے۔

تعلقات کو متاثر کرنے والا یہ افسوسناک واقعہ اس کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ پاکستان کی تعلیمی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے چینی باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

بدنام زمانہ کالعدم عسکریت پسند تنطیم بی ایل اے کے گمراہ عناصر کی پاکستان میں چینی تنصیبات پرحملے کی تاریخ اچھی نہیں تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی ایل اے کے خطرات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کی کاوشوں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں اور محنت کشوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے چینی سفارت خانے کا دورہ کرکے چینی قوم کے ساتھ اپنا سیاسی عزم، مصمم ارادہ اور اظہار یکجہتی کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار نبھانے والے چینی باشندوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔

سفارت خانے میں تعزیتی کتاب میں شریف نے لکھا تھا کہ  ہم اپنے آئرن بردارز پر اس بزدلانہ حملے پر غمزدہ اور شدید صدمے میں ہیں۔ ہم پاکستان سے تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں اور اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مجرموں کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا نہ دیدیں۔

شریف نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام کو دکھ اور گہرا صدمہ پہنچا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم نے حکومت پاکستان اور عوام کی طرف سے متاثرین سے انتہائی تعزیت اور سوگوار خاندانوں اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان واقعے کے بعد کے حالات سے نمٹنے کے لئے چین سے مکمل تعاون کرے گی، اپنے تمام وسائل بروئے کارلاتے ہوئے اس کی جلد سے جلد تحقیقات کرکے مجرموں کو ہرصورت گرفتار اور قرار واقعی سزا دے گی۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے پریس بریفنگ میں واقعہ بارے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ اس میں 3 چینی اساتذہ ہلاک اور 1 زخمی ہوا تھا۔

انہوں نے بھی کہا کہ  اس میں پاکستانی بھی جاں بحق ہوئے۔ چین اس بڑے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت اورغم و غصے کا اظہار کرتا ہے اور متاثرین سے انتہائی تعزیت ، زخمیوں اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ چینی وزارت خارجہ اور پاکستان میں سفارتی مشنزنے واقعے کے فورا بعد  ہنگامی ردعمل میکیزم کو فعال کیا اور چینی معاون وزیر خارجہ  وو جیانگ ہاؤ نے چین میں پاکستانی سفیر کو ہنگامی فون کال کی ۔

ترجمان نے کہا کہ چین کے وزیر نے فون پر بات چیت کے دوران واقعے پر "شدید تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا کہ وہ فوری جامع تحقیقات کرے۔

وزیرنے یہ بھی کہا کہ حملے کے ذمہ داروں کو گرفت میں لیکر قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزادی جائے اور پاکستان میں چینی باشندوں کے لئے ہرممکنہ حفاظتی انتظامات کئے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔

ان عسکریت پسندوں کو شکست دیکر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے میں دونوں ملکوں کا مشترکہ مؤقف اس بات کا اظہار ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے دہشت گرد عناصر کی کوئی جگہ نہیں اور انہیں ہمیشہ انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ترقیاتی کاموں کے لئے پرعزم ہے اور ہم نے بلوچستان میں سی پیک کے تحت شاندار ترقی کا مشاہدہ کیا ہے ۔

بلوچستان کے کاروباری طبقے اور تاجروں کو حکومت چین سی پیک کے تحت خصوصی مراعات دے رہی تاکہ مقامی پائیدار ترقی سے عوام مستفید ہوں  ۔

سی پیک کے مغربی راستے کی تعمیر سے جن علاقوں میں شاہراہیں تعمیر ہوئی ہیں، جائیداد کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

قلات، کوئٹہ اور ژوب جیسے دیگر شہر بھی منصوبے کے تحت بننے والی شاہراہوں کا نیٹ ورک مکمل ہونے کے بعد مزید متحرک ہوجائیں گے اس سے سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو فروغ ملے گا۔

سی پیک حقیقتاً ایک گیم چیجز  ثابت ہوا ہے جو چین سے ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور یورپ تک علاقائی منڈیوں کو باہمی طور پر جوڑتا ہے اور خطے میں اور ان کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے وسیع تجارتی مواقع کے ساتھ نئی منڈیاں بھی کھولتا ہے۔

گوادر سی پیک کے 4 ستونوں میں سے ایک ہے، باقی 3 ستون توانائی، بنیادی ڈھانچہ اور صنعتی ترقی ہیں۔ اس سے پاکستان اور خاص کر بلوچستان کو زبردست فائدہ ہوگا کیونکہ مغربی راستے پر چاروں ستون مضبوط ہورہے ہیں اور یہ بلوچستان سے گزریں گے۔

بلوچستان میں صنعتی علاقوں کے لئے مجوزہ مقامات میں صوبے کے بڑے شہر، کوئٹہ، گوادر، خضدار، اوتھل ، حب اور ڈیرہ مراد جمالی شامل ہوں گے۔ مجوزہ معدنیاتی اقتصادی پروسیسنگ زون خضدار (کرومائٹ، اینٹی مونی)، چاغی (کرومائٹ)، قلعہ سیف اللہ (اینٹی مونی، کرومائٹ)، سیندک (سونا، چاندی)، ریکوڈک (سونا)، قلات (خام لوہا)، لسبیلہ (مینگنیز)، گوادر (آئل ریفائنری) اور مسلم باغ (کرومائٹ) میں قائم کئے جائیں گے۔

گوادر بندرگارہ کی ترقی سے دوطرفہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے تحت بلوچستان اور پورے پاکستان کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

گوادر تقریباً ایک لاکھ 10ہزارنفوس پر مشتمل شہر ہے اور سی پیک کے تحت وسیع صنعت کاری نہ صرف شہر بلکہ پورے بلوچستان پر اثرات مرتب کرے گی۔

سی پیک کے آغاز سے ہی اس بندرگاہی شہر میں زبردست تبدیلی آئی اور اسے ایک نئی زندگی ملی ۔

گوادر کی معاشی ترقی کا راستہ گوادر بندرگاہ سے نکلتا ہے۔

یہاں توانائی اور صنعت کاری کے کئی منصوبے شروع ہورہے ہیں ۔ دھیرے دھیرے پاکستان میں ادارے ان بڑے منصوبوں سے واقف ہوجائیں گے ۔

سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں بڑے منصوبوں کا تصور، منصوبہ بندی ،عملدرآمد اور منظوری حاصل کرنا ہمارے لئے بہت مشکل تھا تاہم اب تمام امور روانی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان بڑے ترقیاتی منصوبوں سے بلوچستان خود کو بتدریج معاشی مرکز میں تبدیل کررہا ہے اور اس سے خطے کے باشندوں کے لئے بھی بے پناہ مواقع پیدا ہورہے ہیں۔