چین کے بی آر آئی نے مختلف ممالک کے مابین روابط کو فروغ دیا، آرکٹک سرکل اسمبلی کے اجلاس میں شرکا کا اظہار خیال

بیجنگ(آئی این پی) آرکٹک سرکل اسمبلی کا چار روزہ اجلاس آئرلینڈ میں منعقد کیا گیا جس میں چین کے وائٹ پیپر ’’ چین کی آرکٹک پالیسی ‘‘ میں پیش کردہ ’’ آئس سلک روڈ ‘‘ پرایک مرتبہ پھر بے حد توجہ دی گئی ہے۔
قطب شمالی پر سمندری برف پگھلنے سے تجارتی بحری جہاز وں کاآرکٹک اوقیانوس سے گزرنا ممکن ہوتا ہے ،یوں ایشیا اور یورپ نیز شمالی امریکہ کو ملانے والے آبی راستے کی طوالت روایتی آبی گزرگاہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں چین اور روس کے رہنماؤں نے قطب شمالی میں ’’ آئس سلک روڈ ‘‘ کی تعمیر کا انیشیٹیو پیش کیا۔
اجلاس کے شرکا نے کہا کہ چین نے ’’ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘‘ پیش کیا جس سے مختلف ممالک کے درمیان انٹرکنیکشن نےفروغ پایا ہے۔قطب شمالی کےآبی راستےکا آغاز اس علاقے کے اقتصادی دائرے میں مجموعی اضافے کے فروغ کا باعث ہو گا اور اس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔اس کے علاوہ اس وقت دنیا میں مائع قدرتی گیس کی مانگ بڑھ رہی ہے اور آئس سلک روڈ سےمتعلقہ تعاون کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔