چین کے جمہوری نظام میں طاقت کا سرچشمہ ’’عوام‘‘ ہیں، چینی صدر

بیجنگ(آئی این پی) چین کے صدر شی جن پھنگ نے مرکزی عوامی کانگریس کی ایک ورک کانفرنس میں کہا ہے کہ کسی ملک میں جمہوریت کی کلید یہی ہے کہ ’’عوام ملک کے حاکم‘‘ ہیں.دنیا کی سب سے بڑی حکمران جماعت کے طور پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اپنے قیام کے بعد سے ہی ’’عوام کی حاکمیت ‘‘ کے تصور کو اپنا ایک اہم مشن قرار دیا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد اہم سیاسی انتظامات جیسے کہ عوامی کانگریس کا نظام ، کثیر جماعتی تعاون اور سیاسی مشاورتی نظام کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ ہیں ۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد ملک میں جمہوری سیاسی ترقی کے قانون کے بارے میں فہم کو مزید فروغ ملا ہے۔
چین میں قانون سازی کے حوالے سے تمام بڑے فیصلے ایک مربوط طریقہ کار ، جمہوری غور و فکر اور سائنسی اور جمہوری فیصلہ سازی کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ہر قانونی نظام معاشرے کے تمام شعبوں کی رائے کا عکاس ہو ، یوں وسیع پیمانے پر عوام کے مفادات کا بہتر تحفظ کیا جاتا ہے۔
گزشتہ چالیس سالوں میں اصلاحات اور کھلے پن کے دوران ، عوامی کانگریس کے نظام نے چین کی تیز رفتار معاشی ترقی اور طویل مدتی سماجی استحکام کے لیے اہم ادارہ جاتی ضمانت فراہم کی ہے۔ یہ چین کے قومی حالات اور حقائق کے عین مطابق ہے ،اس سے ایک سوشلسٹ ملک کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے ، اور اس بات کی ضمانت ملتی ہے کہ عوام ملک کے حاکم ہیں ، یہ ایک ایسا عمدہ نظام ہے جو چینی قوم کی عظیم نشاتہ الثانیہ کی ضمانت دیتا ہے۔