چین اور پاکستان کے درمیان ہر معاملے پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے، مشاہد حسین

پاکستان بھی غربت کے خاتمے کیلئے چینی ماڈل سے بھی سیکھنے کا خواہاں ہے، سی پیک منصوبے سے 70ہزار سے زائد افراد کیلئے روزگار کے مواقع میسر آ چکے ہیں ،اس سے پاکستان میں غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

چین ، پاکستا ن کو کورونا وائرس وبا سے نمٹنے کیلئے مدد فراہم کرتا رہے گا پاکستان اور چین نے ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ، اپنے قیام سے لے کر اب تک چین کمیونسٹ پارٹی نے چینی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چین کے سفیر نونگ رونگ کا سی پی سی کے100 ویں یوم تاسیس پر پاکستان چین انسٹی ٹیوٹ کے زیرا ہتمام منعقدہ ویبینار سے خطاب

سی پی سی اور چینی قیادت آج بھی اسی جذبے سے اپنے عوام کی خدمت کر رہی ہے ، ای ڈی پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ مصطفی سید

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کے چیئرمین اور پاک چائنا انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید نے چینی عوام کی ترقی خصوصا خواتین کو جاگیردارانہ غلامی سے آزاد کرانے اور برابری کے مواقع فراہم کرنے کیلئے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین ما ئوز ے تنگ کی شراکت کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے کہاہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہر معاملے پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے، معاون خصوصی تخفیف غربت وسماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پاکستان بھی غربت کے خاتمے کیلئے چینی ماڈل سے بھی سیکھنے کا خواہاں ہے، سی پیک منصوبے جن سے 70ہزار سے زائد افراد کیلئے روزگار کے مواقع میسر آ چکے ہیں سے پاکستان میں غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی جیسا کہ سی پیک کے تحت بننے والے اقتصادی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ہیں انہوں نے چین میں غربت کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے ٹائم فریم سے10سال قبل ہی پائیدار ترقی کے اہداف پورے کرنے کو چین کی عظیم کامیابی قرار دیا۔ جمعرات کوچین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے100سال مکمل ہونے پر پاکستان چین انسٹی ٹیوٹ نے ایک ویبینار کا اہتمام کیا، وڈیو لنک کانفرنس ویپینار کا مقصد چین کی کمیونسٹ پارٹی کے تجربات کا احاطہ کرنا تھا ، ویپینار میں پاک چین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے نئی جہتوں پر روشنی ڈالی گئی، ویپینار میں اقوام متحدہ کے 10 سال قبل ملک سے غربت کے خاتمے کے دئیے گئے ہدف کو پورا کرنے کیلئے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کی تعریف کی گئی،ویپینار سے پاکستانی پارلیمنٹیرینز اورپاکستان میں چین کے سفیر پر مشتمل نو مقررین کے پینل نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 100سال مکمل ہونے پر تفصیلی گفتگو کی،سوشلزم کے جھنڈے تلے چین کی جدید ریاست میں تبدیلی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی شراکت کو ویپینار میں اجاگر کیا گیا، ویپینار میں شریک مقررین نے چین کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کی عوامی فلاح پر مبنی پالیسیاں ہی چین کی ترقی کی بنیادی وجہ ہے جس باعث ملک چار دہائیوں کے قلیل عرصہ میں تقریبا 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے میں کامیاب رہا ہے، یہ اپنی نوعیت کا اہم ویپینار تھا جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کے70سال مکمل ہونے پر دونوںطرف سے اعلیٰ اکابرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفی سید نے ویبنار میں افتتاحی کلمات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور قیادت آج بھی اسی جذبے سے چینی عوام کی خدمت کر رہی ہے، انہوں نے صدر شی چن پھنگ کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کوویڈ 19وبائی بیماری کے آغاز پر کہا تھاکہ چین وبائی مرض کا مقابلہ کرے گا کیونکہ یہ عوام کی جنگ ہے ، اور ایک بار جب یہ ویکسین تیار ہوجاتی ہے تو چین اسے عوام کی بھلائی کے عظیم مقصد کیلئے تقسیم کردے گا،ویپینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کے چیئرمین اور پاک چائنا انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید نے چینی صدر شی جن پنگ جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں ،کے نام چین کی کمیونسٹ پارٹی کے100سال مکمل ہونے پرپاکستان کی 9اہم جماعتوں کے نمائندوں کا دستخط شدہ تہنیتی خط بھی پڑھا کر سنایا، انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہر معاملے پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے، سینیٹر مشاہد حسین نے چینی عوام کی ترقی خصوصا خواتین کو جاگیردارانہ غلامی سے آزاد کرانے اور برابری کے مواقع فراہم کرنے کیلئے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین ما ئوزے تنگ کی شراکت کے اصول کو اجاگر کیا مشاہد حسین سید نے مائو زیڈونگ کی مشہور محاورے” خواتین نے آسمان کو اونچا رکھا ہوا ہے” کا بھی حوالہ دیا، مشاہد حسین نے پچھلے 40سال میں چین کے 80کروڑ لوگوں کو خط غربت سے نکالنے کیلئے چین کمیونسٹ پارٹی کے کردار اور چین کے پرامن عروج کو بھی اجاگر کیا،معاون خصوصی برائے انسداد غربت پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ویپینار سے اپنی کلیدی خطاب میں چین میں غربت کے خاتمے کیلئے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے شاندار کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی غربت کے خاتمے کیلئے چینی ماڈل سے بھی سیکھنے کا خواہاں ہے، انہوں نے چین میں غربت کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے ٹائم فریم سے10سال قبل ہی پائیدار ترقی کے اہداف پورے کرنے کو چین کی عظیم کامیابی قرار دیا،انہوں نے کہا کہ پاک چین اکنامل کوریڈور(سی پیک) منصوبے جن سے 70ہزار سے زائد افراد کیلئے روزگار کے مواقع میسر آ چکے ہیں سے پاکستان میں غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی جیسا کہ سی پیک کے تحت بننے والے اکنامک منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ہیں ، ویپینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 100سال مکمل ہونے پر لکھے گئے تہنیتی خط پر مشاہد حسین سید کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک چین کمیونسٹ پارٹی نے چینی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چین کمیونسٹ پارٹی نے چین میں ترقی کو افق تک پہنچانے اور سوشلزم کے نظریے کو ایک نئی جہت دی ہے، چین ، پاکستا ن کو کورونا وائرس وبا سے نمٹنے کیلئے مدد فراہم کرتا رہے گا ،چینی سفیر نے مذید کہا کہ پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، ویپینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر تاج حیدر نے چین میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے سی پی سی کی قربانیوں اور شراکت پر روشنی دالتے ہوئے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے100سالوں میں چین کے عوام کو بہتر مستقل میں داخل کرنے، چین سے غربت کے خاتمے، غلامی سے نجات دلانے اور چین کو ایک جدید ترقی یافتہ ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو پاک چین تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا،بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر انورالحق کاکڑ نے ویپینار سے خطاب میں عالمی وبا کورونا کے دوران پاکستان کو فراہم کردہ چینی امداد پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ2021 پاک چین تعلقات کی 70ویں سالگرہ اور چین کمیونسٹ پارٹی کے صد سالہ جشن کا سال ہے ،انہوں نے چین کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے مابین مضبوط تعلقات کی ضرورت پر زور دیا، جماعت اسلامی کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور امید ہے کہ رواں سال نومبر تک سی پیک مغربی روٹ مکمل ہوجائے گا جس سے خیبر پختونخوا کے لوگوں کی ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے اسٹریٹجک محل وقوع کے باعث سی پیک کے تحت زیر تعمیر ر شکئی اکنامک زون کو وسطی ایشیا میں صنعتی بر آمدات بڑھانے کیلئے اہم منصوبہ قرار دیا،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر محمد قاسم رونجو نے چینی صدر شی جن پنگ کو چین سے غربت کے خاتمے پر مبارکباد پیش کی انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ جو کہ آپریشنل ہو چکی ہے بہت جلد پورے خطے کا معاشی و تجارتی مرکز بن جائے گا،انہوں نے کوسٹل بیلٹ اور سی پیک کے تحت شروع کئے گئے دیگر منصوبوں کی وجہ سے بلوچستان کو مواقعوں کی سرزمین قرار دیا انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے بلوچستان کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ،چائنا ایگزیکٹو لیڈر شپ اکیڈمی(پڈونگ) میں ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ایکسچینج اینڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل لیو جنفا نے ویپینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کمیونسٹ پارٹی اب تک دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور چینی عوام کی حمایت اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔انہوں نے 1978سے چین میں جاری اصلاحات اور سوشلزم کے ساتھ چین کی ترقی پر روشنی ڈالی، ویپینار سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی حیدر نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قبولیت اس کی بے مثال معاشی نمو اور عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوںمیں مضمر ہے، جس طرح 40 سال کے اند ر چین میں غربت کا خاتمہ کیا گیا وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی عظیم کامیابی کو اجاگر کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 90 فیصد چینی عوام چین کی ترقی کے لئے چینی کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں سے خوش ہیںویپینار2 گھنٹے تک جاری رہا اور اور 50سے زیادہ شرکا نے میزبانی کی جنہوں نے پاک چین تعلقات کے حوالے سے سیر حاصل معلومات حاصل کیں