سی پیک پاک چین عوام سے عوام کے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے ،یوتھ لیڈرز

اسلام آباد(آئی این پی ) پاک چین سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر پاک چین انسٹی ٹیوٹ نے پاک چین تعلقات کی تشکیل میں مستقبل کے رہنما کے عنوان سے ایک ویبنار کا اہتمام کیا۔ کانفرنس کا اہتمام فرینڈز آف سلک روڈ کے تحت کیا گیا تھا۔ ویبنار کا اہتمام چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت باہمی نوجوانوں کے تبادلے کو سمجھنے اور سہولیات فراہم کرنے کے لئے کیا گیا تھا جیسا کہ یہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا باہمی مکالمہ تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے نوجوانوں کو شامل کرنا تھا۔ ویبنار میں یوتھ پارلیمانی رہنماؤں ، سینیٹر قراة العین مری اور سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان سمیت آٹھ نامور مقررین ک نے پینل میں حصہ لیا۔ مرکزی مقررین کو دو سیشنوں میں تقسیم کیا گیا ، جس کی صدارت چھیانلی لیو نے کی ، جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پا ک چین انسٹی ٹیوٹ مصطفی حیدر سید نے افتتاحی کلمات سے آغاز کیا ۔ کانفرنس کو مختلف موضوعات کے ساتھ دو سیشنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے سیشن کا مرکزی خیال تھا "پاک چین مستقبل کا تعاون، یوتھ رہنماؤں کا ایک نقطہ نظر جبکہ دوسرے سیشن کا اعنوان تھا عوام سے عوام کے رابطے،میڈیا اور ثقافت کا کردار ۔ اس پروگرام کی صدارت گوانچا کی ایڈیٹر چھیانلی لیو نے کی جس نے خطے کے مستقبل کی تشکیل میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 70 کامیاب سالوں پر روشنی ڈالی۔ نوجوانوں کے تبادلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ڈویلپمنٹ ، نسل اور مذہب میں فرق نہیں کرتی ہے اور اسی لئے آگے بڑھناہوگا۔ پاک چین انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ فروری 2019 میں فرینڈز آف سلک روڈ کے قیام کے بعد سے میڈیا کے ساتھ مل کر لوگوں میں رابطے بڑھانے کے لئے اس پلیٹ فارم میں سیاسی جماعتوں ، کاروباری گروپوں ، طلباء ، سول سوسائٹی ، اکیڈمیا کے نامور ارکان کو لایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبادلے پاک چین تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہیں ، کیونکہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط رابطے اس کی عوام میں جڑ ہے۔ مزید برآں انہوں نے نوجوانوں کو اگلے 70 سالوں تک اس خو بصورت ، وراثت میں دو طرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ سید نے سی پیک کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں معاشرتی ایکوئٹی انقلاب کو انجینئر کرے گا۔ ڈاکٹر افنان اللہ خان نے بگ ڈیٹا اور آرٹیفشل انٹیلیجنس پر بات کی کہ پاکستان چین سے کیسے سیکھ سکتا ہے؟ انہوں نے صدر شی جن پنگ کے حوالے سے بتایا جنہوں نے انٹرنیٹ کے گہرے انضمام ، بگ ڈیٹا اور آرٹیفشل انٹیلیجنس کو حقیقی معیشت کے ساتھ فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور مزید کہا کہ پاکستان کو بگ ڈیٹا کو استعمال کرنے کے لئے چینی ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ جی ڈی پی کی نمو میں اضافہ۔ سی پیک امور سے متعلق پی ٹی آئی کے مشیر بایزید کاسی نے مشترکہ مستقبل کی برادری کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار پر بات کی۔ بلوچستان میں نوجوانوں کے ساتھ اپنے باہمی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کاسی نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان پاک چین آہنی بھائی چارے میں شراکت کے خواہشمند ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی 65 فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ، اس لئے انہیں مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاک چین تعلقات کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ اکیڈمیا کو نوجوانوں کو تربیت دینے اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے لہذا وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کے لئے متحرک ہیں۔ انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا ایک غیر تربیت یافتہ کارکن کبھی بھی عمارت نہیں بنا سکتا لہذا ہمیں اپنے نوجوانوں کو پاک چین تعاون کے خطوط پر تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ چائنہ انسٹی ٹیوٹ آف کنٹمپریری ریلیشنز کے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایسوسی ایٹ ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر لو چن ہاؤ نے پاک چین تعاون: چیلنجز اور مواقع پر بات کی۔ پاک چین تعلقات کے 70 سال پر پینل کو مبارکباد دینے کے بعد ، انہوں نے پاکستان اور چین کے لئے مواقع کے بنیادی شعبوں پر روشنی ڈالی۔( i) سیاسی وابستگی ، جو ایک شرط ہے۔( ii) اقتصادی تعاون ، پاک چین تعلقات کی ایک مستحکم بنیاد۔ (iii) اسٹریٹجک اجتماع ، مشترکہ نظریاتی نظریات اور (iv) کوویڈ19 ، جس کے خلاف پاکستان اور چین نے ایک مضبوط محاذ کھڑا کیا ہے۔ سینیٹر قراة العین مری نے خواتین کو بااختیار بنانے اور سی پیک پر اچھی گرفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی پیک سے متعلقہ منصوبوں میں خواتین کو شامل کرنے کی وکالت کی ۔ انہوں نے چین کو ایک ایسے ماڈل ملک کے طور پر پیش کیا جو عالمی سطح پر صنفی گیپ انڈیکس میں 30 فی صد ہے اور کہا کہ پاکستان اس سے سبق حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سی پیک بہت سارے مواقع پیش کرتا ہے ، تھر کول پاور پلانٹ میں خواتین کے نقطہ نظر کو پورا کرنے کے بعد ہی خواتین کو بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔ سینیٹر میری نے کہا خواتین کی ملازمت میں 25 کا اضافہ ، جی ڈی پی میں 33 فیصد اضافے کا باعث بنتا ہے ، اور اگر پاکستان سی پیک کو نچلی سطح پر لوگوں کے لئے ایک متمول حقیقت بنانا چاہتا ہے تو پاکستان کو اس کے حصول کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیشن 2 میں ، ایس ڈی پی آئی میں ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو ڈاکٹر حنا اسلم نے چین میں تعلیم حاصل کرنے کا اپنا تجربہ بیان کیا۔