چین کا "بیلٹ اینڈ روڈ” شراکت داروں کے ساتھ تجارتی حجم 9.2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا متعلقہ ممالک میں چین کی غیر مالیاتی براہ راست سرمایہ کاری 136 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، رپورٹ

بیجنگ ( آئی این پی)ڈبلیو ٹی او میں شمولیت کے بعد چین نے بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن کے ایک بڑے اقدام کے طور پر 2013 میں ’’ بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘ کی مشترکہ تعمیر کے عظیم انیشیٹو کو آگے بڑھایا۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں ’’ بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘ کی مشترکہ تعمیر ایک بلیو پرنٹ سے حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، اور ٹھوس نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ اس دوران چین کا ’’ بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘ شراکت داروں کے ساتھ تجارتی حجم 9.2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، متعلقہ ممالک میں چین کی غیر مالیاتی براہ راست سرمایہ کاری 136 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ بی آر آئی شراکت داروں نے چین میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 27,000 نئے کاروباری ادارے قائم کیے ہیں۔
اس دوران کئی بڑے منصوبے جیسے پاور سٹیشن، پل، سڑکیں ، ریلوے اور اقتصادی راہداریاں وغیرہ تیزی سے آگے بڑھے ہیں۔ چین۔یورپ ریل گاڑیاں 23 یورپی ممالک کے 175شہروں تک جاتی ہیں جو بلاشبہ یوریشیائی خطے میں اہم بین الاقوامی تجارتی شریان بن چکی ہیں۔
رواں سال نومبر تک،چین نے بی آر آئی کی مشترکہ تعمیر کے تحت 140 ممالک اور 32 بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ 200 سے زائد تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں، اور 14 ممالک کے ساتھ تھرڈ پارٹی مارکیٹ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔
آج عالمی وبائی صورتحال کے تناظر میں چین ’’ بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘ شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشکلات پر قابو پانے اور عالمی انسداد وبا تعاون اور اقتصادی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے مزید کوششیں اور متعلقہ ممالک کی مدد کر رہا ہے۔