اکثر امریکی ایشیائی مخالف تشدد اور نسلی پرستی میں اضافے سے لاعلم ہیں:امریکی محقق

امریکی شہر نیویارک میں ایشیائی مخالف نفرت انگیزجرائم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جارہی ہے۔(شِنہوا)

لاس اینجلس(شِنہوا) ایک امریکی محقق کا کہنا ہے کہ بہت سے امریکی ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ گزشتہ سال اٹلانٹا میں ہونے والے قتل عام کے بعد سے ملک میں ایشیا مخالف تشدد اور نسل پرستی میں اضافہ ہوا ہے، اس واقعہ  میں چھ ایشیائی خواتین سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں جولین کلیرنس لیوی پروفیسر آف سوشل سائنسز اور امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی ایک منتخب رکن جینیفر لی نے بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنےمضمون میں اے اے پی آئی ڈیٹا اینڈ مومینٹیو کے ایک قومی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وباکے آغاز کے بعد سے امریکہ میں ایشیائی مخالف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے: 2021 میں 6 میں سے 1 ایشیائی نژاد امریکی بالغ شہری نے بتایا کہ اسے  نفرت پر مبنی جرم کا سامنا کرنا پڑا جو کہ 2020 میں 8 میں سے 1 سے زیادہ ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورینا کے شہر سان جوس میں شہری ایشیائی نژاد امریکیوں سے نفرت کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں شریک ہیں۔(شِنہوا)

مضمون میں کہا گیا ہے کہ 2022 کے پہلے تین ماہ میں، یہ تعداد پہلے ہی 12 میں سے 1 تک پہنچ چکی ہے۔ ایشیائی نسل پرستی میں اضافے کی وجہ سے یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے اور یہ کہ پورے امریکہ میں ایشیائی امریکیوں کی سوشل ٹریکنگ انڈیکس2022  سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ  5 میں سے 1 امریکی  ایشیائی امریکیوں کو کوویڈ-19 کا کم از کم جزوی طور پر ذمہ دار سمجھتے ہیں،  گزشتہ سال 10 میں سے 1 امریکی ایسا سمجھتا تھا۔

صرف گزشتہ ایک سال میں، 10 میں سے 1 ایشیائی امریکی کو دیکھ کر کھانسی کی گئی یا اس پر تھوک دیا گیا اور تقریباً 3 میں سے 1 کو کہا گیا ہے کہ اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ مضمون کے مطابق، تاہم، ایک تہائی امریکی اس بات سے لاعلم ہیں کہ ایشیائی باشندوں کے خلاف ملک میں   نسل پرستانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔