چین روس تجارت، اقتصادی تعاون میں اضافے کا رحجان برقرار

چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچھوآن میں چھینگڈو کو روس کے سینٹ پیٹرزبرگ سے جوڑنے والی پہلی چین یورپ مال بردار ٹرین کی چھینگڈو انٹرنیشنل ریلوے پورٹ سے روانگی کا فضائی منظر۔(شِنہوا)

بیجنگ(شِنہوا)چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ چین اور روس نے شاندار تجارتی اور اقتصادی تعاون کو برقرار رکھا ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں مزید ہم آہنگی کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزارت تجارت(ایم او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عالمی مندی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین اور روس کے مابین تجارت 2021 میں گزشتہ سال کی نسبت 35.9 فیصد اضافہ کے ساتھ 1 کھرب 46 ارب 87 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

وزارت تجارت کے ترجمان گاؤفینگ نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ چین مسلسل 12 سالوں سے روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔

بریک ڈاؤن میں چین کی روس کو برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 33.8 فیصد جبکہ روس سے درآمدات میں 37.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

2021 میں مکینیکل اور برقی مصنوعات کا تجارتی حجم 43 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر رہا جو گزشتہ سال کی نسبت 40.7 فیصد زیادہ ہے۔وزارت تجارت کے تحت چینی اکیڈمی برائے بین الاقوامی تجارت و اقتصادی تعاون سے تعلق رکھنے والے لیو ہوا چھن نے بتایا کہ چین اور روس کے درمیان تجارت کی جانے والی مصنوعات تیزی سے متنوع اور تکمیلی ہوتی جا رہی ہیں۔