چین میں منعقدہ انسداد دہشت گردی کے عالمی سمپوزیم کا بین الاقوامی تعاون پرزور

گوانگ ژو (شِنہوا) چین کے جنوبی شہر گوانگ ژو میں انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق ہونے والے سمپوزیم میں ماہرین نے انسداد دہشت گردی کے لئے بین الاقوامی تعاون اور خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔

آن لائن اور آف لائن منعقد ہونے والے  انسداد دہشت گردی ، ڈی ریڈیکلائزیشن اور تحفظ انسانی حقوق کے چوتھے عالمی سمپوزیم میں  چین ، برطانیہ ، امریکہ ، سویڈن، اٹلی اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے حکام،عہدیداروں ، ماہرین ، سکالرز اور غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ اطلاعات کے نائب سربراہ جیانگ جیانگو نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دہشت گردی سے پیدا ہونے والا عالمی چیلنج گزشتہ دو دہائیوں میں غیرمعمولی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ پر عالمی برادری کا اتفاق ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

جیانگ نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر دوہرے معیارات کو ترک اور کسی کو بھی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سیاست زدہ  یا اسے ایک حربے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے اور انسداد دہشت گردی کے بہانے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔

پاکستانی سینیٹر مشاہد حسین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے مسئلے کو بعض ممالک نے اپنے مفادات کو پورا نہ کرنے والے دیگر ملکوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے اور دباو ڈالنے کے لئے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ہانگ کانگ ، سنکیانگ اور تبت سے متعلقہ مسائل کا استعمال کرتے ہوئے بعض مغربی ممالک کی جانب سے چین پر الزام تراشی کے بھی سیاسی عزائم ہیں جو مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔

سنکیانگ نارمل یونیورسٹی کے ماہر لیانگ یوچھون نے کہا کہ چین کا انسداد دہشت گردی کا طریقہ کار نہ صرف عالمی برادری کے معمول کے معیار کے  مطابق ہے بلکہ چینی خصوصیات کا بھی حامل ہے، اس طریقہ کار سے دہشت گردی کے بار بار ہونے والے واقعات کو مؤثر طریقے سے روکا گیا ہے اور تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے بنیادی حقوق بشمول ان کے بقاء اور ترقی کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔

ماہر نے بتایا کہ آج تک سنکیانگ میں مسلسل گزشتہ چار سال سے زیادہ عرصہ سے دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سابق سینئر ماہر الفریڈ ڈی زیاس نے ویڈیو لنک کے ذریعے کہا  کہ اگرچہ اقوام متحدہ دہشت گردی کو ہمارے دور کی ایک لعنت سمجھتا ہے جس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ صرف طاقت کے ذریعے دہشت گردی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ یہ ضروری ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات تلاش کی جائیں اور ان ناانصافیوں اور عدم مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے جو کچھ لوگوں کو دہشت گردی کی  کارروائیوں کی جانب مائل کرتی ہیں۔