امریکہ نوول کروناوائرس کے ساتھ "کمزوراورعجیب” انداز میں نمٹا،فلسطینی ماہر

نیو یارک(شِنہوا) امریکہ کےنیویارک کےٹائمزاسکوائر میں سیاح سیڑھیوں پر آرام کررہے ہیں۔

غزہ(شِنہوا)فلسطینی ماہر نے کہاہے کہ امریکی انتظامیہ نوول کروناوائرس کیخلاف "کمزوراورعجیب” انداز میں نمٹی جس کی وجہ سے امریکہ میں عالمی وبا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

غزہ پٹی کی امہ یونیورسٹی میں لیکچرارحوسام الداجنی نے شِنہوا کو حالیہ انٹرویو میں کہاکہ نوول کروناوائرس نے اس حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے شہریوں کی زندگیوں بارے غفلت برتی۔

الدجنی نے کہاکہ امریکی حکومت کی روک تھام کے سخت اقدامات کے بغیرمعاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضد مصدقہ کیسز اورہلاکتوں کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر امریکی حکومت سخت اقدامات اٹھاتی توامریکی طبی نظام وائرس پر قابو پانے کی اہلیت رکھتا تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایک کے بعد دوسری آنے والی امریکی انتظامیہ نے امریکی جمہوریت اورمساوات پرغرورکیاتاہم آج تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بالکل الٹ ثابت ہوا ہے خاص طور پرعالمی وبا کے پھیلنے کے معاملے میں۔

انہوں نے مزید کہاکہ امریکہ نے نوول کروناوائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے”کمزوراورعجیب”طریقہ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک میں نسلی امتیازکو بھی بدترکردیا ہے۔

الدجنی نے کہاکہ کمزورلوگوں کے حقوق اورمفادات کا بھی مناسب خیال نہیں رکھا گیا جس کے باعث سماجی تقسیم، انسانی حقوق بارے دوہرے معیارات جیسے بڑے مسائل میں اضافہ ہوااورآخر کار امریکی شہریوں کاامریکی انتظامیہ کی کوششوں سے اعتماد ختم ہوگیا۔