چین کا امریکہ سے سنکیانگ سے متعلقہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغورخوداختیار علاقے کے شہر ہوتان کے پرانے قصبے توان چھینگ میں ایک خریدار"ڈو لین" کے ایک اسٹور میں خریداری کرتے ہوئے۔ (شِنہوا)

بیجنگ(شِنہوا) چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ سنکیانگ پیداواری و تعمیراتی کور اور دو متعلقہ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے اپنے غلط فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ چین نے امریکہ کی جانب سے  اس طرح کا طرز عمل جاری رکھنے کی صورت میں جوابی اقدام کا عزم ظاہر کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے ان خیالات کا اظہار امریکہ کے  متعلقہ اقدام  اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ بیان کے جواب میں کیا جس میں چین کی سنکیانگ پالیسی پر تنقید کی گئی تھی۔

وانگ نے روزانہ کی پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکی اقدام  چین کے داخلی امور میں کھلی مداخلت اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت اور سخت مذمت کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سنکیانگ سے متعلقہ امور کبھی بھی انسانی حقوق ، نسل یا مذہب کے حوالے سے نہیں رہے، بلکہ ان کا تعلق  انسداد دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے ہے۔سنکیانگ کے معاملات خالصتاً چین کے داخلی امور ہیں۔امریکہ کے پاس مداخلت کرنے کا کوئی حق اور کوئی وجہ نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سنکیانگ کی پیداواری وتعمیراتی کور نے سنکیانگ کی ترقی ، نسلی اتحاد ، سماجی استحکام اور سرحدی تحفظ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور  تمام نسلی گروہ دوستانہ اور ایک دوسرے سے تعاون کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔امریکہ کا یہ الزام افواہ پھیلانے اور کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں۔

وانگ نے کہا کہ  چینی حکومت اپنی خودمختاری ، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو برقرار رکھنے ، پرتشدد دہشتگرد ، علیحدگی پسند اور مذہبی انتہا پسند قوتوں کا مقابلہ کرنے اور سنکیانگ کے امور اور چین کے دیگر داخلی امور میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کے لئے پرعزم ہے۔