تنزانیہ میں 30 لاکھ بچے ناقص غذائیت کی وجہ سے غیر کامل نشوونما کا شکار ہیں، وزیر

تنزانیہ میں دارالسلام کے نواحی علاقہ کے ایک یتیم خانے میں ایک بچہ موجود ہے۔(شِنہوا)

دارالسلام(شِنہوا) تنزانیہ میں5 سال سے کم عمر کم از کم 30 لاکھ بچے ناقص غذائیت کی وجہ سے غیر کامل نشوونما کا شکار ہیں۔ یہ بات کابینہ کے ایک وزیر نے کہی۔

وزیر برائے صحت ، معاشرتی ترقی ، صنف، بزرگ و بچے اُمی موالیمو نے کہا کہ غیر کامل نشوونما والے بچوں کے جسم میں قوت مدافعت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں کو شکار ہو جاتے ہیں۔

یکم اگست سے 7 اگست تک دودھ پلانے کے عالمی ہفتہ کے دوران تانگا کے علاقے میں خطاب کرتے ہوئے موالیمو نے کہا کہ 30 لاکھ بچوں کو ان کی ماؤں کی جانب سے دودھ پلانے اور متناسب غذائی اجزاء میں کمی کی وجہ سے غیر کامل نشوونما کا سامنا ہے۔

دودھ پلانے کے عالمی ہفتہ 2020 کا موضوع ” ایک صحت مند سیارے کے لئے دودھ پلانے میں معاونت” ہے۔

اس موضوع کی مناسبت سے عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ دودھ پلانے کی ہنر مند مشاورت تک خواتین کو رسائی اور  تحفظ فراہم کریں جو دودھ پلانے میں مدد کا ایک اہم جزو ہے۔