داخلی امور میں مداخلت پر فلپائن کی امریکی قانون سازوں کی مذمت

منیلا(شِنہوا) فلپائن  نے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت پرامریکی قانون سازوں کو  سخت جواب  دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلپائن اب امریکہ کی کالونی نہیں رہا۔

صدارتی ترجمان ہیری روک نے جمعرات کو  ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی  بریفنگ میں 50 امریکی قانون سازوں کے حالیہ اقدام پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔

  امریکی قانون سازوں نے  امریکہ میں فلپائن کے سفارتخانےکو خط ارسال کیا تھا جس میں فلپائن کی حکومت سے 3جولائی کو صدرروڈریگو ڈوٹیرٹے کی جانب سے دستخط کردہ  انسداد دہشت گردی کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔

روک نے امریکی قانون سازوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ فلپائن ایک آزاد ملک ہے جس نے طویل عرصہ پہلے امریکہ کی کالونی نہ رہنے کا فیصلہ کیا۔

 روک نے کہا کہ فلپائنی امور میں مداخلت بند کی جائے  اب آپ ہمارے نوآبادیاتی آقا نہیں ہیں۔

  روک نے امریکیوں کو 1901 میں وسطی فلپائن کے مشرقی سمار میں بے گناہ شہریوں کے قتل سمیت امریکی قبضے کے دوران فلپائن کے خلاف ان کے مظالم کی یاد دلائی۔

روک نے کہاکہ ہم  خط پر دستخط کرنے والے ارکان کانگریس کو بتانا چاہتے ہیں کہ  ہمارے ملک میں ایک فعال عدالتی نظام ہے ہمیں انسداد دہشت گردی کے قانون کی آئینی حیثیت پرفیصلے کرنے کے لئے اپنے عدالتی نظام پر بھروسہ ہے۔