ہانگ کانگ کی نوجوان نمائندہ کا یو این اجلاس میں قومی سلامتی کے قانون کی حمایت کا اظہار

جینیوا (شِنہوا) ہانگ کانگ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی ایک نوجوان نمائندہ نے  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 44 واں اجلاس کے دوران ہانگ کانگ میں  قومی سلامتی کے قانون کی حمایت  کرتے ہوئے اس  چینی شہر میں تشدد اور غیر ملکی مداخلت کی مذمت کی ہے۔

چین کی اقوام متحدہ ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی لام لام نِکسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کونسل کو بتایا کہ بنیادی قانون کے تحت ، ہانگ کانگ چین کا ایک ایسا علاقہ ہے جسے انتہائی زیادہ خودمختاری حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار ہانگ کانگ کو طاقت اور تشدد کے ذریعہ چین سے چھین لیا گیا تھا جسے  نوآبادیات کا سامنا کرنا پڑا، اور پھر 1997 میں اس پر چین کی خود مختاری بحال ہوئی ، جس پر خوشی کا اظہار ہونا چاہئے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تشدد اور مداخلت کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔ لام نے  کونسل کو بتایا کہ سال 2019 ہانگ کانگ کے لئے ایک دل دہلا دینے والا سال تھا، کیونکہ اس شہر کو راتوں رات ایک "گوتھم شہر” میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی میڈیا اور سیاست دانوں نے ہانگ کانگ میں تشدد کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی اور مختلف نظریات رکھتے ہوۓ لوگوں میں خوف وہراس پھیلایا گیا۔ نوجوانوں کو سکھایا گیا کہ شہر کے ہر علاقے پیٹرول بم پھینکنا ٹھیک ہے کیونکہ وہ "آزادی کے جنگجو” ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ کافی ہے  اور یہ کہ جون میں ہانگ کانگ کے 29لاکھ رہائشیوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ قومی سلامتی کے قانون کی حمایت کی مہم میں دستخط کئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہر کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہانگ کانگ کے دو بار تشدد کے ذریعہ چھن جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔