جنوبی چین کے ہانگ کانگ کے قومی سلامتی قانون پر کینیڈا کا بیان چین کے داخلی امور میں مداخلت ہے

اوٹاوا (شِنہوا) کینیڈا میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ  ہانگ کانگ  خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس اے آر) میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق عوامی جمہوریہ چین کے قانون پر کینیڈا کا غیر ضروری تبصرہ  چین کے داخلی امور میں واضح مداخلت ہے۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ہفتے کو  ایک بیان میں کہا کہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے ہانگ کانگ کے لئے قومی سلامتی کا قانون تشکیل  دیا اور اسے ایچ کے ایس اے آر کے بنیادی قانون کے ضمیمہ III میں درج کیا ہے جس کا ایس اے آر حکومت کے ذریعے ہانگ کانگ میں  نفاذ کیاگیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ قانون  ‘ایک ملک ، دو نظام’ کی جانب ایک سنگ میل  اور قومی خودمختاری ، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو برقرار رکھنے اور  ہانگ کانگ میں پائیدار سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کے تحفظ  اور ایک ملک ، دو نظام ‘ کے اصول پر مستحکم عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک مضبوط ادارہ جاتی ضمانت ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مذکورہ قانون کے نفاذ سے ہانگ کانگ کے قانونی ڈھانچے کو تقویت ملے گی ، سماجی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا ، کاروباری ماحول میں بہتری کے ساتھ ہانگ کانگ کے شہریوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اس سے فائدہ ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ چین کی  مرکزی حکومت نے اس  قانون کو سائنسی ، جمہوری اور قانونی حیثیت دینے کے لئے  ہانگ کانگ کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے وسیع پیمانے پر رائے طلب کی ۔